Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
263 - 415
رکھيں گے اور حقیقی معبود کو چھوڑ کر اسے ہی اپنا معبود اور رب سمجھیں گے، ان کا معاملہ اسی طرح رہے گا اور وہ دنیا کی خواہشات کی پیروی کريں گے ۔ جوآدمی ایسے زمانے کو پائے خواہ وہ تمہاری اولاد سے ہو یا تمہاری اولاد کی اولادسے ،اُسے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طر ف سے قسم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کونہ سلام کرے ، نہ ان کے مریضوں کی عیادت کرے، نہ ان کے جنازوں میں جائے اور نہ ہی اُن کے بڑوں کی عزت کرے اور جس نے ایسا کیا اس نے اسلام کو گرانے میں مدد کی۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث۷۵۱۲،ج۸،ص۱۰۷، مختصراً)
    سیِّدُ المُبلِّغِین،جناب رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''انسان کہتا ہے:میرا مال، میرا مال اور تمہارے لئے تو تمہارا مال وہی ہے جو تم نے صدقہ کر کے باقی رکھا یاکھا کر فنا کردیا یا پہن کر پرانا کردیا۔''
(صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق، باب الدنیاسجن للمؤمن وجنۃ للکافر، الحدیث۷۴۲۰،ص۱۱۹۱)
    ایک شخص نے عرض کی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! مجھے کیا ہوگیا ہے کہ مجھے موت پسند نہیں ہے ؟ '' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا:''کیا تمہارے پاس مال ہے؟'' اس نے عرض کی:'' جی ہاں! یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اپنا مال آگے بھیج دے کیونکہ مؤمن کا دل اپنے مال کے ساتھ ہوتا ہے اگر اُسے آگے بھیج دے تو اس سے ملنا چاہتا ہے اور اگر پیچھے چھوڑدے تو اس کے ساتھ پیچھے رہنا چاہتا ہے۔''
(الزھد لابن المبارک، باب فی طلب الحلال، الحدیث۶۳۴،ص۲۲۴)
     شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:'' انسان کے دوست تین قسم کے ہیں، ایک موت تک اس کا ساتھ دیتا ہے، دوسرا قبر تک اور تیسرا محشر تک ساتھ دیتا ہے۔ انسان کی موت تک ساتھ دینے والا اس کا مال ہے، قبر تک ساتھ دینے والے اُ س کے گھروالے ہیں اور محشر تک ساتھ دینے والا اس کا عمل ہے۔''
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت، الحدیث۶۵۱۴،ص۵۴۶، بتغیرٍ)
مال کی تعریف ومذمت کا بیان:
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بعض مقامات پر مال کو لفظ ِ خیر کے ساتھ ذکر فرمایا۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا ۚۖ الْوَصِیَّۃُ
ترجمۂ کنزالایمان: اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کر جائے۔(پ2،البقرہ:180)

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عزّت نشان ہے:
''نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ
ترجمہ:کیا ہی اچھامال نیک بندے کے لئے ہے۔''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب التوکل والتسلیم، الحدیث۱۲۴۸،ج۲،ص۹۱)
Flag Counter