Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
261 - 415
    دوسری قسم جو اس کے مقابل ہے اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن سے فوری لذت حاصل ہوتی ہے، موت کے بعد ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا جیسے گناہ اور مباح چیزوں سے ضرورت سے زائد فائدہ اٹھانا۔

    تیسری قسم ان دونوں کے درمیان ہے اس سے مراد ہروہ چیز ہے جو اُخروی اَعمال پر مددگار ہو جیسے کھانے ، پینے ،لباس اور نکاح وغیرہ کے معاملات میں سے بقد رِ ضرورت حاصل کرنا اور یہ پہلی قسم کی طر ح دنیامیں سے نہیں اور بعض حکماء نے ان تمام اقسام کو جمع کر دیااورارشاد فرمایا: ''تیری دنیا وہ ہے جو تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل کردے۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمان میں دُنیوی خواہشات کو پانچ امو ر میں جمع فرمادیا:
اِعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمانـ: جان لو! دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کو د اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اوراولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۔(پ 27،الحدید:20)

    پس ان پانچ امور سے سات چیزیں حاصل ہوتی ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمان میں جمع فرمایا:
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنَاطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت، عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونچی ہے۔(پ3،اٰل عمران:14)

    جان لو !بندے نے دنیا میں اپنے نفس اور مقصد کو بھلادیا۔ اس کی مثا ل اس حاجی کی سی ہے جو راستے کی منازل پرٹھہرتا ہے، جانور کوچارہ کھلاتا ، اس کی خبر گیر ی کرتاہے ، اس کی صفائی کرتا اور اسے طرح طرح کے کپڑوں سے آراستہ کرتا ہے، اس کے لئے طرح طرح کی گھاس لاتا ہے اور برف کے ذریعے اس کے پانی کو ٹھنڈا کرتا ہے یہاں تک کہ قافلہ چلا جاتا ہے او ریہ حج اور قافلے کے جانے سے غافل ہوتا ہے اور اس بات سے بھی غافل ہوتا ہے کہ اس جنگل میں رہنے کی وجہ سے وہ در ندو ں کا لقمہ بن جائے گا جبکہ عقلمند آدمی اونٹنی کے معاملہ میں صرف بقدرِ حاجت بات پر اکتفاء کرتا ہے۔ اسی طرح آخرت میں سوچ بچار کرنے والا شخص اپنے لئے دنیا میں سے صرف اس چیز پر اکتفاء کرتا ہے جس سے وہ آخرت کے راستے پر چلنے کے لئے قوت حاصل کر سکے اور جن لوگوں پر شہوت وغفلت غالب ہوتی ہے وہ کھانے اورپہننے کے لئے کماتے ہیں اور کمانے کے لئے کھاتے اور پہنتے ہیں اور ایک گر وہ وہ ہے جنہوں نے اپنی تخلیق کے مقصد کو پہچان لیا اور اس کے لئے انہوں نے تیاری کی اوردیگر حاجات وضروريات سے بچتے رہے اور حاجت اور ضرورت کے مطابق ہی اُن کی طر ف متوجہ ہوئے۔
Flag Counter