Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
260 - 415
    امیر المؤمنین، مولیٰ مشکل کُشاحضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا کی مثال یوں لکھ بھیجی کہ یہ سانپ کی طرح ہے، اس کا جسم نرم و ملائم ہے لیکن اس کا زہر ہلاک کر دیتا ہے لہٰذا اس میں جو چیز تمہیں اچھی لگے اس سے دور رہو کیونکہ وہ تیرے پاس بہت کم وقت رہے گی،اس کی جدائی پر یقین رکھتے ہوئے اس کے خیالات کو دُور کرو، دنیا کی سب سے زیادہ خوشی کی حالت سے زیادہ پرہیز کرو کیونکہ جب دُنیا دار اس سے خوش ہوکر مطمئن ہو جاتا ہے تو اس سے اسے ناپسندیدہ بات پہنچتی ہے، وَالسَّلَام۔

    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:
اِنِّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ الْمَاشِیْ فِی الْمَاءِ، ھَلْ یَسْتَطِیْعُ الَّذِیْ یَمْشِیْ فِی الْمَاءِ اَنْ لَا تَبْتَلَ قَدَمَاہُ۔
ترجمہ:دُنیا دار کی مثال پانی پر چلنے والے شخص کی ہے،تو کیا پانی پر چلنے والا اپنے پاؤں کو گیلا ہونے سے بچا سکتا ہے؟
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الامل، الحدیث۱۰۵۸۳،ج۷،ص۳۶۱)
    حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَولاک،سیَّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
مَا الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا کَمَثَلِ مَا یَجْعَلُ اَحَدُکُمْ اَصْبَعَہ، فِیْ الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْمَا یَرْجِعُ اِلَیْہِ۔
ترجمہ:آخرت کے مقابلے میں دنیا اسی طرح ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی کو سمندر میں ڈالتا ہے تو اسے دیکھنا چاہے کہ وہ کیا لے کر آتی ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، باب فناء الدنیا ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۷۱۹۷،ص۱۱۷۳)
دُنیا کی حقیقت وماہیت کا بیان:
    جان لو! بے شک دنیا و آخرت کوتیری دو حالتوں سے تعبیرکیا گیا ہے ،جو قریب ہے اس کا نام دنیا ہے اور یہ سب کچھ موت سے پہلے ہے اور جو دُور ہے اسے آخرت کہتے ہیں اور یہ سب موت کے بعد ہے اور دنیا میں علم وعمل ہی ایسی چیز ہے جو موت کے بعد تمہارا ساتھ دے گی، یہ(علم و عمل)آخر ت کے معاملات میں شمار کئے جاتے ہيں ،اگرچہ صوری اعتبار سے یہ اس عالم میں ہیں۔ جیسا کہ نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
حُبِّبَ إلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلَاثٌ:اَلطِّیْبُ وَالنِسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُعَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ۔
ترجمہ:مجھے تمہاری دنیا میں سے تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو ،عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز بنائی گئی۔
 (سنن النسائی، کتاب عشرۃ النسآء، باب حب النسآء، الحدیث۳۳۹۱/۳۳۹۲،ص۲۳۰۷)
    پس آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نماز کو دنیا اور اس کی لذَّات میں شمار فرمایا کیونکہ نمازکی حرکات'' محسوسات و مشاہدات'' میں داخل ہیں۔
Flag Counter