ترجمہ:جب کوئی عقلمند دنیا کو غور سے دیکھتا ہے تو اسے دوست کے لباس میں دشمن نظر آتا ہے۔
یَا رَاقِدَ اللَّیْلِ مَسْرُوْرًا بِأوَّلِہٖ إنَّ الْحَوَادِثَ قَدْ یَطْرُ قْنَ أسْحَارًا
أفْنَی الْقُرُوْنَ الَّتِیْ کَانَتْ مُنْعَمَّۃً کَرُّ اللِّیَالِیْ إقْبَالاً وَّاِدْبَارًا
ترجمہ:اے رات کو سونے والے! تو اس کے پہلے حصے پر خوش ہوتا ہے بے شک حادثات کبھی سحری کے وقت بھی پہنچتے ہیں وہ بستیاں جو نعمتوں سے بھرپور تھیں انقلاب زمانہ نے انہیں فنا کر دیا۔
بعض حکماء کا قول ہے کہ دن تیر ہیں، لوگ نشانہ ہیں اور زمانہ ہر روز تمہاری طرف اپنے تیر پھینکتا ہے اور اپنے دنوں اور راتوں کے ذریعے تمہیں ہلاک کرتا ہے یہاں تک کہ تمہارے تمام اجزاء نہ لے لے پس تو حوادثاتِ زمانہ کی موجودگی میں کیسے سلامت رہ سکتا ہے،اگر تجھ پر وہ نقصان ظاہر کر دیا جائے جو ان دنوں نے تمہارے اندر کیا ہے توہر آنے والے دن سے تو گھبرا جائے اور ان لمحات کا گزرنا تجھ پر بھاری ہو جائے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تدبیر اس سوچ پر غالب ہے، ان آفات کے باوجود انسان دنیاوی لذات سے لطف اندوز ہوتا ہے اور جب کوئی حکیم اُسے خمیر بناتا ہے تو یہ اندرائن(ایک قسم کا کڑوا درخت جس کا پھل بھی کڑوا ہوتا ہے) سے بھی زیادہ کڑوا ہوتا ہے اور اس کے ظاہری افعال کو دیکھ کر کوئی بھی اس کے عیوب کو بیان نہیں کرسکتا۔
ایک حکیم کا قول ہے کہ دنیا کامال اپنے خیالات کے اعتبار سے دھوکا ہے پھر اُس کے چلے جانے کے بعد افلاس ہے جو جھوٹے خواب و خیالات کے مشابہ ہے۔
حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
اَلدُّنْیَا حُلْمٌ وَأَھْلُھَا عَلَیْہَا مَجَازُوْنَ وَمَعَاقَبُوْنَ وَھَالَکُوْنَ۔
ترجمہ:دُنیا خواب کی طرح ہے لیکن دنیا والوں کو اسی پر جزا ء و سزا اور ہلاکت ہوگی۔