امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا:'' جو شخص کوئی حدیث بیان کرے اور اس پر عمل کیا جائے تو اس کے لئے عمل کرنے والے کے برابر ثواب ہے۔''
حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت کے بارے میں مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں: '' علم حاصل کرو کیونکہ علم کا سیکھنا خشیت الٰہی کا باعث ہے ،اس کی تلاش عبادت، اس کا درس تسبیح، اس کی جستجو کرناجہاد، اس کی تعلیم دینا صدقہ اورعلم کو اس کے اہل تک پہچانا قربت (یعنی نیکی) ہے۔ علم تنہائی اور خلوت کا دوست، خوشی و تنگی میں رہنما،دوستوں میں نائب ،اقربامیں سے قریب اور جنت کے راستے کا مینار ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ذریعے بہت سی قوموں کو بلندی عطا فرما کر بھلائی کے کاموں میں قائد اور ہادی بنادیتا ہے جن کی اقتداء کی جاتی ہے وہ اچھے کاموں میں رہنما ہوتے ہیں ان کے نقش قدم کی پیروی کی جاتی ہے اور ان کے افعال کی قدر کی جاتی ہے فرشتے ان کی صحبت میں رغبت رکھتے ہیں اور انہیں اپنے پروں سے ڈھانپتے ہیں ہر خشک و تر چیز ان کے لئے استغفارکرتی ہے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں اور کیڑے مکوڑے، خشکی کے درندے و جانور، آسمان اور اس کے ستارے ان کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں کیونکہ علم دل کو اندھے پن سے بچا کر قوت بخشتا ہے بندہ اس کے ذریعے نیک لوگوں کی منازل اور بلند درجات کو پا لیتاہے اس میں غوروفکر روزہ رکھنے کے برابر اور اس کا درس رات کے قیام کے مساوی ہے ،علم کے ذریعے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت و فرمانبرداری ہوتی ہے اسی سے اس کی توحید و بزرگی کا اقرار ہوتا ہے اسی کے ذریعے صلہ رحمی کی جاتی ہے علم امام اور عمل اس کا تابع ہے علم نیک بخت لوگوں کے دلوں میں ڈالا جاتا ہے اور بدبختوں کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔''
عقلی اعتبار سے بھی علم کی فضیلت پوشیدہ نہیں کیونکہ اس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب اور اس کے جوار رحمت تک رسائی ہوتی ہے اور یہ ایسی ابدی سعادت اور سرمدی لذت ہے جس کی انتہاء نہیں اس میں دنیا کی عزت اور آخرت کی سعادت ہے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس لئے بندہ اپنے علم کے ذریعے اپنے اخلاق کو سنوار کرابدی سعادت حاصل کرسکتا ہے اور دوسروں کو علم سکھا نا ابدی سعادت کا سبب ہے کیونکہ عالم لوگوں کے اخلاق کو سنوارتا اور اپنے علم کے ذریعے ایسی چیزوں کی طرف دعوت دیتا ہے جو انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب عطا کرتی ہیں، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے: