Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
258 - 415
وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں اس میں باقی رکھا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ جب بنی اسرائیل کے لئے دنیا خوب آراستہ وپیراستہ کی گئی اور پھیلادی گئی تو وہ زیورات، عورتوں، خوشبو اور کپڑوں میں مست ہو گئے۔''
     (جامع الترمذی، ابواب الفتن، باب مااخبر النبی۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۱۹۱، ص۱۸۷۲) 

(الزھد لابن ابی الدنیا، الحدیث۲۰،ج۱،ص۲۱)
    حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے ا رشاد فرمایا:''دنیا کو رب نہ بناؤ ورنہ وہ تمہیں اپنا غلام بنالے گی، اپنا مال اس کے پاس جمع کرو جو اسے ضائع نہیں کرتا کیونکہ جس کے پاس دنیا کا خزانہ ہو اسے آفت کا ڈر ہوتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس مال جمع کروانے والے کو آفت کا خوف نہیں ہوتا۔''

    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:'' مؤمن دو خوفوں کے درمیان ہوتا ہے: ایک اس مدت پر جو گزر گئی اور وہ نہیں جانتا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے بارے میں کیا معاملہ فرمائے گا، دوسری وہ مدت جو باقی ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کیا فیصلہ فرمائے گا ۔پس انسان کو اپنی ذات سے اپنی ذات کے لئے، اپنی دُنیا سے اپنی آخرت کے لئے، اپنی زندگی سے موت کے لئے اور اپنی جوانی سے بڑھاپے کے لئے زادِ راہ تیار کرنا چاہے کیونکہ دُنیا تمہارے لئے اور تمہیں آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! موت کے بعد معافی مانگنے کی کوئی جگہ نہیں اور دُنیا کے بعد جنت یا دوزخ کے علاوہ کوئی گھر نہیں۔''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الامل، الحدیث۱۰۵۸۱، ج۷، ص۳۶۰)
    اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ حَقًّا عَلَی اللہِ اَنْ لَا یَرْفَعَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا اِلاَّ وَضَعَہ،۔
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیا میں جس چیز کو بلندی عطا فرماتا ہے اُسے پست بھی کر دیتا ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، الحدیث۶۵۰۱،ص۵۴۵)
    حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے ارشاد فرمایا:''کون ہے جو سمندر کی موج پر گھر بنائے تو تمہاری دنیا کی یہی مثال ہے لہٰذا اسے مستقل ٹھکانہ نہ بناؤ۔''

    اسی طرح حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے ارشاد فرمایا:'' اے حواریو! دین کو سلامت رکھتے ہوئے تھوڑی دنیا پر راضی رہو جس طرح دنیا دار لوگ دنیا کو سلامت رکھتے ہوئے تھوڑے دین پر راضی ہو جاتے ہیں۔''
Flag Counter