| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جو شخص اپنی دُنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے پس فنا ہونے والی پر باقی رہنے والی کو ترجیح دو۔
(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی موسی الاشعری، الحدیث۱۹۷۱۷،ج۷،ص۱۶۵)
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:
''حُبُّ الدُّنْیَا رَأسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ
ترجمہ: دُنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل ہے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب ذم الدنیا،الجزء الاوّل، الحدیث۹،ج۵،ص۲۲)
حضرت سیِّدُنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی منگوایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پانی اور شہد پیش کر دیا گیا۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے منہ کے قریب کیا تو رو پڑے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقی صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو بھی رُلادیا، پھر دیگر صحابۂ کرام علیہم الرضوان تو خاموش ہوگئے مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش نہ ہوئے بلکہ مسلسل روتے رہے حتیّٰ کہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان خیال کرنے لگے کہ ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کچھ پوچھ نہیں سکیں گے۔راوی فرماتے ہیں کہ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی انکھوں سے آنسو پونچھے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:''اے خلیفۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس وجہ سے رو پڑے؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''میں رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ تھا اور میں نے دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کسی چیز کو اپنے سے دور فرما رہے ہیں حالانکہ مجھے کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی، میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ کس چیز کو اپنے سے دور فرما رہے ہیں؟ ''ارشاد فرمایا: ''یہ دنیا ہے جو مثالی صورت میں میرے سامنے آئی، میں نے اس سے کہا: مجھ سے دور ہو جا تووہ دوبارہ آ کر کہنے لگی:'' اگر چہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھ سے دور ہو جائیں گے لیکن آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد والے مجھ سے دور نہیں ہوسکیں گے۔''
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کافرمانِ نصیحت نشان ہے:یَاعَجَباً کُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُصَدِّقِ بِدَارِ الْخُلُوْدِ وَھُوَ یَسْعٰی لِدَارِ الْغُرُوْرِ۔
ترجمہ: اس شخص پر بہت تعجب ہے جو ہمیشہ کے گھر کی تصدیق کرتا ہے حالانکہ وہ دھوکے والے گھر( یعنی دنیا) کے لئے کوشش کررہا ہوتا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما ذکر عن نبینافی الزھد، الحدیث۶۱،ج۸،ص۱۳۳)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ