Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
256 - 415
باب26:             دُنیا کی مذمت کا بيان
    جان لو! دنیا اللہ عَزَّوَجَلَّ، اُس کے دوستوں اور اس کے دشمنوں کی بھی دشمن ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دشمن اس طرح ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کو اس کے راستے پر چلنے نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جب سے اسے پیدا فرمایا اس کے طرف نظر رحمت نہیں فرمائی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوستوں کی اس طرح دشمن ہے کہ وہ ان کے سامنے مزیّن ہو کر آتی ہے اور اپنی آرائش وتروتازگی سے انہیں دھوکا دیتی ہے حتیٰ کہ انہیں اس کے چھوڑنے میں صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں کی اس طرح دشمن ہے کہ اپنے مکروفریب کے ذریعے آہستہ آہستہ انہیں اپنے جا ل میں پھنسا لیتی ہے یہاں تک کہ وہ اس میں قید ہو جاتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں ذلیل و رسوا کرکے پہلے سے زیادہ محتاج کر دیتی ہے۔
دُنیا کی مذمت:
    جان لو! انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد لوگوں کو آخرت کی طرف دعوت دینا تھا اور اسی مقصد کے لئے آسمانی کتابیں نازل کی گئیں اور اکثر آیات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔

    مروی ہے،ایک مرتبہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا گزر ایک مردہ بکری کے پاس سے ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا: ''کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک کس قدر حقیر ہے؟''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ''جی ہاں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اُس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! جس قدر یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر وذلیل ہے، اگر دنیا کی قدر و قیمت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکافر کو اس کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب مثل الدنیا، الحدیث۴۱۱۰،ص۲۷۲۷)
    حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
''اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ
ترجمہ:دنیا مؤمن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔''
 (صحیح مسلم، کتاب الزھد والرقاق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر، الحدیث۷۴۱۷،ص۱۱۹۱)
    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:
اَلدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ، مَلْعُوْنٌ مَافِیْھَااِلَّامَاکَانَ لِلّٰہِ مِنْھَا۔
ترجمہ:دُنیا اور جو کچھ اس میں ہے ملعون ہے مگر اس میں سے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہو۔
 (مراسیل ابی داؤد، باب فی سب الدنیا،ص۲۰)
Flag Counter