یہاں پر نہی سے مرادخاص اسی نعمت کے اپنی طرف منتقل ہونے کی تمنا کرنے سے روکنا ہے جبکہ کسی مسلمان کا یہ آرزو کرنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بھی اسی جیسی نعمت عطا فرمائے تو یہ آرزو مذموم نہیں اور اگر یہ چیز دین میں ہو تو قابلِ تعریف ہے۔(اسی کو رشک کہتے ہيں)
جان لو! حسد کے بہت سے اسباب ہیں اور وہ دشمنی، فخر، بغض، تکبر ،خودپسندی، پسندیدہ مقاصد کے فوت ہونے کا خوف، حکومت کی خواہش ،نفس کی خباثت اور اس کا بخل ہے اور یہ سب کے سب مذموم ہیں۔
حسد کا علاج یہ ہے کہ تم اس بات میں غور کرو کہ یہ دُنیا و آخرت میں نقصان دیتا ہے۔ جہاں تک دنیوی نقصان کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ تجھے اس سے اَذیت ہوتی ہے اور تو دِن رات غم والم کا شکار رہتا ہے۔ اور دینی نقصان یہ ہے کہ تو(بندے پر) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت سے ناخوش رہتا ہے اور تیرا یہ رویہ اس نعمت والے کے لئے باعثِ ثواب اور تیرے لئے باعثِ گناہ ہے۔ جب تو یہ بات جانتا ہے کہ تو اپنے دشمن کا دوست نہیں بن سکتا(کہ اُسے فائدہ پہنچائے) تو تجھ پر ضروری ہے کہ تو تکلفاً حسد کو چھوڑ دے۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے، نبئ اَکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: