(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی الحسد، الحدیث۴۹۰۳،ص۱۵۸۳)
حسد کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی(مسلمان) بھائی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ملتی ہے تو حاسد انسان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس بھائی سے نعمت کا زوال چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کو ملنے والی نعمت کو ناپسند نہیں کرتا اور نہ اس کا زوال چاہتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی ایسی ہی نعمت مل جائے تو اسے رشک کہتے ہیں۔
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:
اَلْمُؤْمِنُ یَغْبِطُ وَالْمُنَافِقُ یَحْسُدُ۔
ترجمہ:مؤمن رشک کرتا اور منافق حسد کرتا ہے۔
(سِیَرُ أعلامِ النُبَلَاء، الرقم۱۲۸۶۔الفضیل بن عیاض بن مسعود بن بشر، ج۷،ص۶۴۱،بتغیرٍ قلیلٍ)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ اِیۡمَانِکُمْ کُفَّارًا ۚۖ حَسَدًا
ترجمۂ کنزالایمان:بہت کتابیوں نے چاہا کاش!تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں(اپنے دلوں کی) جلن سے۔ (پ1،البقرۃ:109)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خبر دی کہ کفار نے حسد کرتے ہوئے مسلمانوں سے ایمان کی نعمت کا زائل ہونا چاہا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی۔(پ5،النسآء:32)
۱؎:''کسی کی دینی یا دنیوی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا یا یہ ارادہ کرنا کہ کسی کو یہ نعمت نہ ملے ''حسد'' کہلاتاہے ۔
(الحدیقۃ الندیۃ،الخلق الخامس عشر من الاخلاق ا لستین المذمومۃ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص ۶۰۰)