| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:'' اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر میں قسم کھاتا توان پر کھاتا:(۱) صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا پس صدقہ کیا کرو(۲) کوئی شخص کسی دوسرے کی زیادتی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا جوئی کے لئے معاف کردے تو بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا اور(۳) جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔''
(جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ماجاء مثل الدنیا مثل أربعۃ نفر، الحدیث۲۳۲۵،ص۱۸۸۶)
نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:''عاجزی وانکساری بندے کے مرتبے میں اضافہ کرتی ہے پس تواضع اختیار کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں رفعت عطا فرمائے گا،درگزر کرنا بندے کی عزت کو بڑھاتا ہے پس معاف کیا کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں عزت عطا فرمائے گا اور صدقہ مال کو بڑھاتا ہے پس صدقہ کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے گا۔''
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
مَنْ دَعَا عَلٰی مَنْ ظَلَمَہ، فَقَدْاِنْتَصَرَ۔
ترجمہ:جس نے اپنے اوپرظلم کرنے والے کے خلاف بد دعا کی اس نے اپنا بدلہ لے لیا۔
(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب من دعا علی من ظلمہ فقد انتصر، الحدیث۳۵۵۲،ص۲۰۱۷)
نرمی کی فضیلت کا بیان:
جان لو! نرمی قابلِ تعریف ہے اور یہ اچھے اخلاق کا نتیجہ ہے، اس کی ضد سخت مزاجی اور گرمی ہے۔
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ام المؤمنین حضرت سیِّدُتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا:''جس شخص کو نرمی سے حصہ ملا اسے دنیا و آخرت کی بھلائی سے حصہ ملا اور جوشخص نرمی سے محروم رہا وہ دنیاوآخرت کی بھلائی سے محروم رہا۔''(مسند ابی یعلی الموصلی، مسند عائشۃ، الحدیث۴۵۱۳،ج۴،ص۱۱۸۔۱۱۹)
نبئ رحمت،شفیعِ اُمت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:
اِذَا اَحَبَّ اللہُ اَھْلَ بَیْتٍ اَدْخَلَ عَلَیْھِمُ الرِّفْقَ۔
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی گھرانے کو پسند فرماتا ہے تو ان میں نرمی پیدا کردیتا ہے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث۲۴۴۸۱،ج۹،ص۳۴۵، اِذا أحب: بدلہ: اِذا اَراد)