| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضورنبئ کریم، رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے: '' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بلندی تلاش کرو۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا :''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !وہ کیا ہے؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو، جو تمہیں محروم کرے اُسے عطا کرو اور جو تم سے جہالت کا سلوک کرے اس کے ساتھ بردباری سے پیش آؤ۔''
(مکارم الأخلاق لابن ابی الدنیا، الحدیث۲۳،ص۳۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿63﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔(پ19، الفرقان:63)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:'' اس سے مراد بردبار لوگ ہیں کہ جب ان سے جہالت کا سلوک کیا جائے تو وہ جہالت سے پیش نہیں آتے۔''
جب کوئی شخص تیری غیبت کرے ، تجھے گالی دے یاعار دلائے تو تجھے بردباری کا رویہ اپنانا چاہے کیونکہ اسی میں دارین کی نجات ہے ،دنیا میں احترام کے اضافہ کا سبب ہے اور آخرت کے ثو اب میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:اِنْ اِمْرُؤٌ عَیَّرَکَ بِمَا فِیْکَ فَلاَ تُعَیِّرْہُ بِمَافِیْہِ ۔
ترجمہ:اگر کوئی تجھے تیرے کسی عیب کے سبب عار دلائے تو تُو اسے اس کے عیب کے سبب عار نہ دلا۔
(سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب ماجاء فی اسبال الأزار، الحدیث۴۰۸۴،ص۱۵۲۱)
عفو ودرگزر کی فضیلت کا بیان:
عفو کا معنی یہ ہے کہ کسی کے ذمہ انسان کا حق ہو اور اسے چھوڑ دے جیسے قصاص، مال یا تاوان چھوڑ دینا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:خُذِ الْعَفْوَ
ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو۔(پ9، الاعراف :199 )
اللہ رب العزت کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:وَ اَنۡ تَعْفُوۡۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے مردو!تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے۔(پ2 ،البقرۃ:237)