Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
251 - 415
    انسان کو چاہے کہ غصے کے وقت یہ (مندرجہ بالا)الفاظ کہے، کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اوربیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔چنانچہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''بے شک غصہ ایک چنگاری ہے جو دل میں بھڑکتی ہے، کیا تم اس کی وجہ سے رگوں کے پھولنے اور آنکھوں کی سرخی کو نہیں دیکھتے پس جب تم میں سے کوئی ایسی بات(یعنی غصہ) پائے تو اگرکھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اگر اس طرح بھی غصہ ختم نہ ہو تو ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کرے کیونکہ پانی ہی آگ کو بجھاتا ہے۔''
 (جامع الترمذی، ابواب الفتن، باب ماأخبرالنبی أصحابہ بماہوکائن الی یوم القیامۃ، الحدیث۲۱۹۱،ص۷۲ ۸ ۱۔سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب مایقال عندالغضب، الحدیث۴۷۸۲/۴۷۸۴، ص۱۵۷۵)
فضیلتِ حِلم کا بیان:۱؎
    جان لیجئے! حلم(یعنی طبعی بردباری) غصہ پی جانے سے افضل ہے کیونکہ غصہ پینے سے مراد تکلفاً برداشت کرنااورتکلفاً برُدبار بننا ہے جبکہ طبعی برُدباری عقل کے کامل ہونے کی دلیل ہے اور قوتِ غضب کا ٹوٹنا عقل کے ماتحت ہے اور اس کی ابتداء تکلفاً برُدبار بننے سے ہوتی ہے پھریہ عادت بن جاتی ہے۔جیسا کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:'' علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور بردباری تکلفاًبرداشت کرنے سے پیداہوتی ہے۔ جو شخص بھلائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے بھلائی دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنا چاہتا ہے اسے بچالیا جاتا ہے۔''
 (المعجم الاوسط، الحدیث۲۶۶۳،ج۲،ص۱۰۳)
    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: ''علم حاصل کرو اور علم کے ساتھ سکون اور بردباری بھی طلب کرو۔ان کے لئے نرمی اختیار کرو جن سے سیکھتے ہو اور جن کو سکھاتے ہو اور متکبر علماء میں سے نہ ہوناورنہ تمہاری جہالت تمہاری بردبا ری پر غالب آجائے گی۔''
 (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم۱۱۶۵،عباد بن کثیر،ج۵،ص۵۴۲)
    اللہ کے رسول ،رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے مہکتے پھول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہانے بارگاہ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں دعاکرتے ہوئے عرض کی:
''اَللّٰھُمَّ اَغْنِنِیْ بِالْعِلْمِ وَزَیِّنِّیْ بِالْحِلْمِ وَاَکْرِمْنِیْ بِالتَّقْوٰی وَجَمِّلْنِیْ بِالْعَافِیَۃِ
ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے علم کے ساتھ غنا،بُردبادی کے ساتھ زینت ،تقوی کے ساتھ عزت اور عافیت کے ساتھ خوبصورتی عطا فرما۔''
 (کنز العمال،کتا ب الاذکار،الباب الثامن فی الدعاء، الفصل السادس فی جوامع الادعیۃ، الحدیث۳۶۶۰، ج۲، ص۸۱)
۱؎:''غصہ وغضب کے وقت اطمینان سے رہنے اور غصہ کی شدت پرقابو پانے کا نام '' حِلم ''ہے ۔اگرکوئی ایسا سبب پایا جائے جس کی وجہ سے غصہ کرنا لازم ہو تو ایسا غصہ حلم کے منافی نہیں اوراگرکوئی اس سبب پر بھی قابو پالے تویہ بھی حلم ہی میں شامل ہے ۔''
(الحدیقۃ الندیۃ،الخلق العشرون من الاخلاق الستین المذمومۃ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص ۶۳۸)
Flag Counter