Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
250 - 415
(کہ غصہ آیا بھی ہے یانہیں)اورنہ کوئی اس غصہ کی تاب لاسکتا یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حق میں کامیاب ہو جاتے۔''
 (الشمائل المحمدیۃ للترمذی، باب کیف کان کلام رسول اﷲ،  الحدیث۲۱۵،ص۱۳۵)
    جان لیجئے! اگرچہ غصے کا مکمل طور پر اِزالہ ممکن نہیں لیکن اسے کم کرنے کی کوشش کرنا تو ممکن ہے،خصوصاً جبکہ یہ ضروریاتِ زندگی میں سے بھی نہیں اور اس طرح کہ وہ اپنے نفس کو ذلت پہنچائے اور یہ جانے کہ اس ذلت اور کمینگی کے باوجود اسے برتری کا اظہار نہیں کرنا چاہے۔اب ہم غصے کا علاج بیان کریں گے۔
غصے کا علاج

غصے کے علاج کی چند صورتیں:
    ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ غصہ پی جانے کے ثواب سے آگاہ ہو جیسا کہ گزرچکا ہے پھر اپنے آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرائے اوریہ یقین رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے اور اپنے آپ کو انتقام کے انجام سے ڈرائے کیونکہ دشمن بھی اسی طرح اسے تکلیف دینے پر کمر بستہ ہے۔ اس طرح یہ طویل دشمنی بن جائے گی اور غصے کے وقت دوسروں کی شکل بگڑنے میں غورو فکر کرے اور اپنے آپ کو اس پر قیاس کرے اور سوچے کہ غصے میں آنے والا حملہ کرنے والے درندے کی طرح ہوتا ہے اوربُردبار شخص انبیاءِ کرام علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام اوراولیاءِ عظام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین (کے اَخلاق) کی نظیر ہوتا ہے۔

    جب انسان غور کریگاتو اسے معلوم ہوگا کہ اس کا غصہ اس وجہ سے ہے کہ اس کا کام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مشیَّت کے مطابق ہوا ہے، اس کے ارادے کے مطابق نہیں ہوا اور اسی وجہ سے احادیث مبارکہ میں وارد ہے کہ غصے کا آنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کا سبب ہے ۔جب تونے ان امور کو جان لیا تو تجھ پر لازم ہے کہ غصے کے وقت
''اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ''
پڑھ۔ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسی طرح حکم فرمایا کہ غصے کے وقت
''اَعُوْذُ بِاللہِ''
پڑھو۔''
 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الحذرمن الغضب، الحدیث۶۱۱۵،ص۵۱۶)
    اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جب غصہ آتا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان کا ناک پکڑ کر ارشاد فرماتے: ''اے عویش(اسم عائشہ کی تصغیر)! یوں کہو: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رب! میرے گناہ بخش دے اور میرے دل کے غصے کو ختم فرما اور مجھے گمراہ کرنے والے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرما۔ ''
 (عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی،باب ما یقول اذا غضب،الحدیث۴۵۵،ص۱۴۲) 

(صحیح مسلم،کتاب الجنۃ، باب عرض مقعد المیت من الجنۃوالنارعلیہ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۳ ۲ ۷،ص۱۱۷۵)
Flag Counter