Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
249 - 415
لیکن اگر اپنے سے بڑے پر غصہ آئے اور اسے خوف محسوس ہو تو خون ظاہری جلد سے اکٹھا ہو کرواپس چلا جاتا ہے، اس کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہو جاتا ہے لیکن اگر غصہ کسی برابر والے پر آئے تو خون سکڑنے اور پھیلنے کی وجہ سے چہرے پر زردی اور سرخی والی کیفیات طاری ہوجاتی ہیں اور وہ مضطرب ہو جاتا ہے۔

    مختصر یہ کہ دل غصے کا مقام ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ انتقام لینے کے لئے دل کے خون کا جوش مارنا۔
انتقام لینے کے اعتبار سے لوگوں کے درجات:
    اس اعتبار سے لوگوں کے تین درجے ہیں۔

    پہلا درجہ: تفریط ہے، مطلب یہ کہ غصے کا بالکل نہ پایا جانا یا اس کا کمزور ہونا ہے اوراس سے مراد حَمِیَّت و غیرت کا نہ ہونا ہے جو کہ مذموم ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ جس شخص کو غیرت دلائی جائے اسے پھر بھی غصہ نہ آئے، وہ گدھا ہے۔

    دوسرا درجہ:اس سے مراد حالتِ اِعتدال ہے، یہی وہ وصف ہے جس کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعریف فرمائی۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔(پ26،الفتح:29)

    تیسرا درجہ: اِفراط ہے، وہ یہ کہ بندہ حد سے نکل جائے اور اس پر غصہ اس قدر غالب آ جائے کہ اس کی عقل دین کی سیاست وطاعت میں نہ رہے۔ چنانچہ آدمی اس طرح ہو جائے جیسے مجبور ہوتاہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اس کا ظاہر تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے جو بد صورت ہوتا ہے اور اس کے باطن کی شکل اس سے بھی زیادہ بد صورت ہوتی ہے۔

    مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غصہ میں آگئیں تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے استفسارفرمایا:''کیا تمہارے پاس شیطان آ گیا؟''انہوں نے عرض کی:''کیا آپ کے ساتھ شیطان نہیں؟'' فرمایا: ''میرے ساتھ بھی ہے، لیکن میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے مقابل میری مدد فرمائی اوروہ مسلمان ہوگیا۔ اب وہ مجھے بھلائی کے علاوہ کوئی بات نہیں کہتا۔''
   (المعجم الاوسط، الحدیث۱۹۷،ج۱،ص۷۱)

(صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۷۱۰۸،ص ۱۱۶۸)
    امیر المؤمنین، مولیٰ مشکل کشاحضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں:'' رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دنیا کے لئے غصہ نہیں فرماتے تھے، جب حق آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو غصہ دلاتا تو کسی کو معلوم نہ ہوتا
Flag Counter