ترجمہ :غصہ نہ کرو۔'' اس نے دوبارہ یہی سوال کیاتو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:
(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الحذرمن الغضب، الحدیث۶۱۱۶،ص۵۱۶)
حضرت سیِّدُنا ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نبئ مکرّم،نورِمجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم اپنے میں سے پہلوان کسے سمجھتے ہو؟'' ہم نے عرض کی:'' جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''پہلوان وہ نہیں، بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔''
(صحیح مسلم، کتاب البر، باب فضل من یملک نفسہ عند الغصب۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۶۴۱،ص۱۱۳۳)
رسولِ اکرم،نورِ مجسّم،شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:
مَا غَضِبَ اَحَدٌ اِلاَّ اَشْفٰی عَلٰی جَھَنَّمَ ۔
ترجمہ:جو شخص غصہ کرتا ہے وہ جہنم کے کنارے پر جا پہنچتا ہے۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی حسن الخلق، فٖصل فی ترک الغضب، الحدیث۸۳۳۱،ج۶،ص۳۲۰،مفھوماً)
جان لو! آدمی کی تخلیق اس اندازمیں کی گئی کہ اس کی فنا اوربقا مقصود تھی لہٰذا اس میں غصہ رکھ دیا گیا۔ یہ حمیت و غیرت کی قوت ہے جو انسان کے باطن سے پھوٹتی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے غصہ کو آگ سے پیدا فرمایا اور اسے انسان کے باطن میں رکھ دیا پس جب وہ ارادہ کرتا ہے تو غصے کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اورجب جوش پیدا ہوتا ہے تو دل کا خون کھول کر رگوں میں پھیل جاتا ہے پھر وہ آگ کی طرح بدن کے بالائی حصے کی طرف اٹھتا ہے یا اس پانی کی طرح جو (برتن کے اندر) کھولتا ہے اور اس طرح وہ چہرے کی طرف اٹھتا ہے پس چہرہ سرخ ہو جاتاہے۔
چنانچہ جب اپنے سے کم مرتبے والے پر غصہ آئے اور اسے معلوم ہو کہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے تو جِلد سرخ ہو جاتی ہے