Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
247 - 415
    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ والاشان ہے:''جو شخص کہے:'' میں اسلام سے بری ہوں'' اگر وہ سچا ہے تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا اور اگر جھوٹا ہے تو اسلام کی طرف صحیح و سالم نہیں پلٹے گا۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الأیمان والنذور، باب ماجاء فی الحلف بالبراءۃ وبملۃ غیرالاسلام، الحدیث۳۲۵۸،ص۱۴۶۷،بتقدمٍ وتاخرٍ)
بیسویں آفت: صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق سوال کرنا:
    عام لوگوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلام اور صفات کے بارے میں سوالات کرنا کہ وہ قدیم ہيں یا حادث؟ اور ان کا ایسی باتیں کرنا فضول ہے بلکہ ان پر لازم ہے کہ ان چیزوں کے بارے میں جاننے کی بجائے عمل میں مشغولیت اختیار کریں کیونکہ اگر عام لوگ بھی ان مسائل میں دخل اندازی شروع کردیں تو کفریہ کلمات میں جاپڑیں گے اورانہیں اس کا شعور تک نہ ہو گا اور ان کا اس معاملے میں سوال کرنا اسی طرح ہے جس طرح گھوڑوں کی رکھوالی کرنے والے کا بادشاہی رازوں کے متعلق پوچھنا۔
    حدیث ِ مبارک میں ارشاد ہے:
نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِیْلِ وَالْقَالِ، وَکَثْرَۃِ السُّوَالِ، وَإضَاعَۃِ الْمَالِ۔
ترجمہ:اللہ کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بحث و مباحثہ کرنے، بکثرت سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا۔
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب ما یکرہ من قیل وقال، الحدیث۶۴۷۳، ص۵۴۳)
    مختصر یہ کہ عام لوگوں کا حروف کے قدیم یا حادث ہونے کے متعلق بحث کرنا ایسے ہی ہے جیسے بادشاہ کسی آدمی کی طرف خط لکھے اور اس میں چند امور کا ذکر کرے اور وہ ان امور پر عمل کرنے کے بجائے اس بات پر وقت ضائع کر دے کہ اس خط کا کاغذ پُرانا ہے یا نیا۔پس ایسا شخص ضرور سزا کا مستحق ہوگا۔
وَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ۔
Flag Counter