Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
246 - 415
محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
إنَّ اللہَ تَعَالٰی یَغْضَبُ اِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ۔
ترجمہ:جب فاسق کی تعریف کی جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ناراضگی فرماتا ہے۔
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ التی یحل۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۳۰، ج۷، ص۱۵۴)
ممدوح کے لئے آفات:
    دو اعتبار سے تعریف ممدوح(یعنی جس کی تعریف کی جائے اس) کے لئے نقصان دِہ ہے۔

(۱)۔۔۔۔۔۔اس میں تکبر اور خود پسندی آجاتی ہے۔

(۲) ۔۔۔۔۔۔جب اس کی اچھی تعریف کی جاتی ہے توخوش ہوتا ہے اور اپنے نفس پر مطمئن ہوتا ہے اور اس کی کوتاہی کو بھول جاتا ہے لہٰذا اس کی نیکی کی کوشش میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اسی لئے نبئ اَکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
قَطَعْتَ عُنْقَ صَاحِبِکَ، وَیْحَکَ لَوْ سَمِعَھَا مَا اَفْلَحَ۔
ترجمہ :تم نے اپنے دوست کی گردن کاٹ دی،تیری خرابی ہو اگر وہ اسے سنتا تو کامیابی نہ پاتا۔
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث ابی بکرۃ نفیع بن الحارث بن کلدۃ، الحدیث۲۰۵۳۵،ج۷،ص۳۳۴بتقدمٍ وتآخرٍ)
انیسویں آفت: گفتگو میں چھوٹی غلطیوں سے لاپرواہی کرنا:
    خصوصاً ایسی گفتگو میں غلطیاں کرنا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی صفات کے متعلق ہو۔ اس کی مثال حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: جو اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے اور میں چاہوں، بلکہ یوں کہے: جو اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے پھر میں چاہوں۔''
  (ابن ماجۃ، ابواب الکفارات،باب النھی أن یقال ما شاء اﷲ وشئت، الحدیث۲۱۷،ص۲۶۰۴)
    (یہ اس لئے فرمایا)کیونکہ عطف ِ مطلق میں(یعنی واؤ کے ذریعے عطف میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ) شریک کہلانے کا وہم پایا جاتا ہے۔

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:
لَا تَقُوْلُوْا لِلْمُنَافِقِ''سَیِّدُنَا'' فَاِنَّہ، اِنْ یَّکُنْ سَیِّدَکُمْ فَقَدْ اَسْخَطْتُّمْ رَبَّکُمْ۔
ترجمہ:کسی منافق کو نہ کہو:اے ہمارے سردار! کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا۔
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب لایقول المملوک ربی وربتی، الحدیث۴۹۷۷،ص۱۵۸۸)
Flag Counter