ترجمہ:جو شخض دنیا میں دو چہروں والا ہو بروزِ قیامت اس کی آگ کی دوزبانیں ہوں گی۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی ذی الوجھین، الحدیث۴۸۷۳،ص۱۵۸۱)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبئ رحمت، شفیعِ امّت، قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''بروزِقیامت تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں میں سے سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جس کے دوچہرے ہیں جواِدھر کچھ کہتا ہے اور اُدھر کچھ کہتا ہے۔'' دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:''جو ان کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور دوسروں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے۔''
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب خیار الناس، الحدیث۶۴۵۴،ص۱۱۲۰)
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ذم ذی اللِّسانین، الحدیث۲۷۷، ج۷، ص۸ ۷ ۱۔۱۷۹)
اٹھارہویں آفت:بے جا تعریف کرنا:
بعض مقامات پر تعریف کرنا منع ہے اور مذمت کرناتو صریح غیبت اورعزت کے درپے ہونا ہے اس کا حکم گزرچکا ہے، تعریف کرنے میں چھ آفات ہیں، چار آفات کا تعلق تعریف کرنے والے سے اور دو کا تعلق اس کے ساتھ ہے جس کی تعریف کی جائے۔
تعریف کرنے والے کے لئے آفات:
(۱)۔۔۔۔۔۔ حد سے بڑھ کر تعریف کرتا ہے یہاں تک کہ جھوٹ میں داخل ہو جاتاہے۔
(۲) ۔۔۔۔۔۔اظہارِ محبت کے لئے تعریف کرتاہے اور اس میں ریاء کاری کو داخل کر دیتاہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔بعض اوقات بغیر تحقیق کے بات کرتا ہے اور اس پر مطلع نہیں ہوتا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ ممدوح( یعنی جس کی تعریف کی جائے اس)کو خوش کرتا ہے حالانکہ وہ ظالم یا فاسق ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں۔ نبئ اَکرم،رسولِ