Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
244 - 415
سولہویں آفت:چغلی کھانا:
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ11﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا۔ (پ29، القلم:11)

    حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: '' غیر ثابت النسب(یعنی بغیر نکاح کے پیدا ہونے والا ) راز کو نہیں چھپاتا۔''

    اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص(راز کی) بات کو نہیں چھپاتا اور چغلی کھاتا ہے، تو یہ اس کے حرامی ہونے کی دلیل ہے، انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان سے اِستدلال کیا ہے:
عُتُـلٍّ بۢـَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ ﴿ۙ13﴾
ترجمۂ کنزالایمان: دُرُشت خُو ا س سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا۔(پ29،القلم:13)

    زَنِیم سے مراد حرامی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حقیقت نشان ہے :
وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣۙ﴿1﴾
ترجمۂ کنزالایمان: خرابی ہے اس کے لئے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے۔  (پ30، الہمزۃ: ا)

    ھُمَزَۃٍ سے مراد بہت زیادہ چغلی کھانے والا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۚ﴿4﴾
ترجمۂ کنزالایمان: لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی۔ (پ30 ،اللہب:4)

    کہتے ہیں کہ وہ چغلی کھانے والی اور باتوں کو اِدھر اُدھر پہنچانے والی تھی۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
فَخَانَتٰہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہِ شَیْـًٔا
ترجمۂ کنزالایمان: پھر انہوں نے ان سے دغا کی تو وہ اللہ کے سامنے انھیں کچھ کام نہ آئے۔(پ28 ،التحریم:10)

    حدیث ِ پاک میں ارشاد ہے:
''لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ
ترجمہ:چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔''
(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مایکرہ من النمیمۃ، الحدیث۶۰۵۶،ص۵۱۲)
    قتَّات سے مراد چغل خور ہے، اس کے متعلق بہت سی احادیث ِمبارکہ وارد ہیں۔
چغلی کی تعریف:
    چغلی کی تعریف یہ ہے کہ ایسی بات ظاہر کرنا جس کا ظاہر کرنا ناپسند ہو۔خواہ وہ ناپسند کرے جس سے سنی گئی یا جس کے
Flag Counter