(۵) عیب والے نام سے معروف ہونا: کوئی شخص اپنے کسی عیب کے ساتھ معروف ہو جیسے لنگڑا، اندھا تو اس صورت میں اسے اس نام سے پکارنے میں غیبت نہیں۔
(۶) اعلانیہ فسق کا مرتکب ہونا: جو شخص اعلانیہ فسق کا مرتکب ہو جیسے ہیجڑا،شراب کی مجلس قائم کرنے والا اوراعلانیہ شراب پینے والا۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
مَنْ أَلْقٰی جِلْبَابَ الْحَیَاءِ عَنْ وَّجْھِہٖ فَلاَغِیْبَۃَ لَہُ۔
ترجمہ:جو شخص اپنے چہرے سے حیا کی چادر اتاردے اس کی غیبت نہیں ہوتی۔
(مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا، باب ذکر الحیاء وما جاء فیہ، الحدیث۱۰۲،ص۸۷۔۸۸،بدون:عن وجھہ)
جان لو! غیبت کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ شرمندہ ہو، توبہ کرے اور اپنے کئے پر افسوس کا اظہار کرے ،تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق سے باہر آجائے۔ پھر جس کی غیبت کی تھی اس سے معافی مانگے تاکہ زیادتی سے برئ الذمہ ہو جائے۔ لیکن جب معافی مانگے تو غمگین اور شرمندہ ہو۔
اورحضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں:''غیبت کرنے والے کے لئے استغفار کافی ہے، معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔''
حضرت سَیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے:
''کَفَّارَۃُ مَنِ اغْتَبْتَ اَنْ تَسْتَغْفِرَلَہٗ
ترجمہ:غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی تم نے غیبت کی اس کے لئے دعائے مغفرت کرو۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب کفارۃ الاغتیاب، الحدیث۲۹۳،ج۷،ص۱۸۸۔۱۸۹)
حضرت سیِّدُنا مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''جب تم اپنے بھائی کا گوشت کھاؤ( یعنی اُس کی غیبت کرو)، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کی تعریف کرو اور اس کے لئے بھلائی کی دعا مانگو۔'' بہتر یہی ہے کہ اظہارِ ندامت کے ساتھ ساتھ معافی مانگی جائے۔