غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کاذکران الفاظ میں کروکہ اگراس تک یہ بات پہنچے تووہ اِسے ناپسندکرے۔ خواہ تم اس کے بدن یا خاندان کے عیب کاذکرکرو یااس کی فعلی، قولی، دینی یادنیوی کوتاہی بیان کرو۔یہاں تک کہ اس کے لباس، مکان اور جانور کا عیب بیان کرنا بھی غیبت ہے۔
جان لو!غیبت کے سلسلے میں اشارۃً گفتگوکرنااورسمجھنا صراحتاًگفتگو کرنے کی طرح ہے اورایسی حرکت جس سے مقصود سمجھ میں آجائے اس میں اورصریح گفتگو کرنے میں کوئی فرق نہیں اورغیبت سننے والاغیبت کرنے والے کے ساتھ(گناہ میں) شریک ہوتاہے، غیبت توجہ سے سننا اورغیبت کرنے والے کی بات پر اظہارِتعجب بھی غیبت ہے ،کیونکہ یہ بھی غیبت کرنے والے کی مدد کرنا اوراس کے ساتھ شریک ہوناہے۔
حضرت سیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے:''جوشخص اپنے (مسلمان)بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پرہے ، کہ وہ قیامت کے دن اس کی عزت کی حفاظت فرمائے گا۔''