Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
242 - 415
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناموسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی بھیجی اور فرمایا:'' جو شخص غیبت سے توبہ کرتے ہوئے فوت ہوا، وہ جنت میں سب سے آخرمیں داخل ہوگا اورجو غیبت پراصرارکی حالت میں فوت ہوا، وہ جہنّم میں سب سے پہلے داخل ہو گا۔''
غیبت کی تعریف:
    غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کاذکران الفاظ میں کروکہ اگراس تک یہ بات پہنچے تووہ اِسے ناپسندکرے۔ خواہ تم اس کے بدن یا خاندان کے عیب کاذکرکرو یااس کی فعلی، قولی، دینی یادنیوی کوتاہی بیان کرو۔یہاں تک کہ اس کے لباس، مکان اور جانور کا عیب بیان کرنا بھی غیبت ہے۔

    جان لو!غیبت کے سلسلے میں اشارۃً گفتگوکرنااورسمجھنا صراحتاًگفتگو کرنے کی طرح ہے اورایسی حرکت جس سے مقصود سمجھ میں آجائے اس میں اورصریح گفتگو کرنے میں کوئی فرق نہیں اورغیبت سننے والاغیبت کرنے والے کے ساتھ(گناہ میں) شریک ہوتاہے، غیبت توجہ سے سننا اورغیبت کرنے والے کی بات پر اظہارِتعجب بھی غیبت ہے ،کیونکہ یہ بھی غیبت کرنے والے کی مدد کرنا اوراس کے ساتھ شریک ہوناہے۔

     حضرت سیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے:''جوشخص اپنے (مسلمان)بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پرہے ، کہ وہ قیامت کے دن اس کی عزت کی حفاظت فرمائے گا۔''
 (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ذب المسلم عن عرض أخیہ، الحدیث۲۴۰، ج۷، ص۹ ۱۵)
کب غیبت کی رُخصت ہے؟:
    غیبت کرنے کی اجازت اس وقت ہے جب شرعی طور پر کوئی صحیح مقصد ہو، اور یہ چھ صورتیں ہیں:

    (۱) ظالم کی شکایت کرنا:جس طرح کوئی شخص قاضی کے سامنے کسی کے رِشوت لینے یا ظلم وغیرہ کرنے کی شکایت کرے، یہ جائز ہے۔

    (۲) مدد طلب کرنا: یعنی برائی کو بدلنے اور گناہگار کو اِصلاح کی طرف لوٹانے کے لئے مدد طلب کرنا۔

    (۳) فتوی کے لئے:اس کی صورت یہ ہے ،کہ وہ اِس طرح کہے:'' میرے باپ یا بھائی پر اس معاملہ میں ظلم کیا گیا، اس سے بچنا کیسے ممکن ہے؟ ''لیکن اس معاملہ میں اشارۃً کہنا زیادہ مناسب ہے۔
Flag Counter