| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ہم پہلے شریعت میں اس کے متعلق وارد ہونے والی مذمت کو ذکرکرتے ہیں ۔چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا
ترجمۂ کنزالایمان:اورایک دوسرے کی غیبت نہ کروکیا تم میں کوئی پسندرکھے گاکہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے۔ (پ26 ،الحُجُرٰت:12)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت وشرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، آپس میں بغض نہ رکھو،بیع نجش نہ کرو۔۱؎ ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔''(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم ظلم المسلم ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۵۴۱،ص۱۱۲۷) (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ وذمھا، الحدیث۱۶۳،ج۷،ص۱۱۶تا۱۱۷)
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے:''غیبت سے بچو،بے شک غیبت زناسے سخت تر ہے، کیونکہ جب آدمی زناکرکے توبہ کرتاہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرماتاہے اورغیبت کرنے والے کی بخشش اس وقت تک نہیں ہوتی ،جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی ہے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ وذمھا، الحدیث۱۶۴،ج۷، ص۱۱۸)
حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:'' شبِ معراج میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا،جواپنے چہروں کواپنے ناخنوں سے نوچ رہے تھے، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا:''یہ کون لوگ ہیں؟ '' انہوں نے جواب دیا:''یہ وہ ہیں جولوگوں کی غیبت کرتے تھے اوران کی عزّتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ وذمھا، الحدیث۱۶۵،ج۷،ص۱۱۸)
۱؎:صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ''نجش مکروہ ہے، حضوراقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا۔ نجش یہ ہے کہ مبیع(یعنی بیچی جانے والی چیز) کی قیمت بڑھائے اورخودخریدنے کاارادہ نہ رکھتاہو۔اس سے مقصودیہ ہوتاہے کہ دوسرے گاہک کورغبت پیدا ہو اور قیمت سے زیادہ دے کرخریدلے اوریہ حقیقۃًخریدارکودھوکادیناہے۔ جیساکہ بعض دکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں، گاہک کودیکھ کر چیز کے خریداربن کردام بڑھادیاکرتے ہیں اوران کی اس حرکت سے گاہک دھوکاکھاجاتے ہیں۔گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنااوراس کے ایسے اوصاف بیان کرنا جونہ ہوں تاکہ خریداردھوکا کھا جائے، یہ بھی نجش ہے۔'' (بہارِشریعت، ج۲، حصہ۱۱، ص۷۳۔۷۴)