(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب حفظ السِر، الحدیث۴۰۶،ج۷،ص۲۴۴)
تیرہویں آفت :جھوٹاوعدہ کرنا:
جھوٹاوعدہ کرنے سے بھی منع کیاگیاہے اوریہ نفاق کی علامات میں سے ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!اپنے قول پورے کرو۔ (پ6 ،المائدہ: 1)
نبئ رحمت،شفیعِ اُمت ،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ صداقت نشان ہے:
ترجمہ:وعدہ پورا کرنا عطیہ ہے۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث۱۷۵۲،ج۱،ص۴۷۵)
چودہویں آفت :جھوٹ بولنا اورجھوٹی قسم کھانا:
یہ نہایت قبیح گناہوں میں سے ہے ،مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبئ اَکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعدخطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:''اللہ کے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم اس مقام پرتشریف فرما ہوئے، جہاں آج میں کھڑاہوں ،پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روپڑے اور فرمایا:نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:
''اِیَّاکُمْ وَالْکِذْبَ،فَإنَّہ، مَعَ الْفَجُوْرِوَھُمَا فِی النَّار
ترجمہ :جھوٹ سے بچوکیونکہ جھوٹ بولنے والابدکارکے ساتھ ہوتا ہے اوروہ دونوں دوزخ میں ہوں گے۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الدعاء، باب الدعاء بالعفووالعافیۃ، الحدیث۳۸۴۹،ص۲۷۰۶)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
''اِنَّ الْکِذْبَ بَابٌ مِّنْ اَبْوَابِ النِّفَاقِ
ترجمہ:بے شک جھوٹ منافقت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔''
(مساوی الأخلاق للخرائطی، باب ماجاء فی الکذب وقبح ما أتی بہ أھلہ، الحدیث۱۰۷،ج۱، ص۱۱۷)
بعض اسلاف سے منقول ہے کہ اشارۃًجھوٹ بولنے کی گنجائش ہے اور امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''توریہ ۱ ؎کرنے سے آدمی جھوٹ سے بچ جاتاہے۔''
۱؎ :صدرالشریعہ،بدرالطریقہ،مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''توریہ یعنی لفظ کے جوظاہرمعنی ہیں وہ غلط ہیں مگراس نے دوسرے معنی مرادلئے جوصحیح ہیں،ایساکرنابلاحاجت جائزنہیں اورحاجت ہوتوجائزہے۔توریہ کی مثال یہ ہے کہ تم نے کسی کوکھانے کے لئے بلایاوہ کہتاہے میں نے کھاناکھالیا۔اس کے ظاہرمعنی یہ ہیں کہ اس وقت کاکھاناکھالیاہے مگروہ یہ مرادلیتاہے کہ کل کھایاہے یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔(مزیدارشاد فرماتے ہیں)احیائے حق کے لئے توریہ جائزہے۔''
(بہارِشریعت،حصہ۱۶،ص۱۶۰۔۱۶۱،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ملخصا)