Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
239 - 415
    جان لو!اس میں حد سے بڑھنا منع ہے کہ کثرتِ مذاق سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور نتیجۃً دِل مُردہ ہو جاتا ہے۔

    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:
''اِنِّیْ لَأمْزَحُ وَلَااَقُوْلُ اِلَّاحَقًّا
ترجمہ:میں مزاح کرتاہوں ،لیکن حق بات کے سواکچھ نہیں کہتا۔''
 (أخلاق النبی لابی الشیخ الاصبہانی ،باب ما روی فی کظمہ الغیظ وحلمہ ،الحدیث۱۷۴،ج۱،ص۱۸۶)
    حضور نبئ اَکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:''تم کھجوریں کھارہے ہو،جبکہ تمہاری آنکھوں میں دردہے توحضرت سیِّدُنا صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' میں دوسری طرف سے کھارہا ہوں۔'' یہ سُن کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مسکرادئیے۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الطب، باب الحمیۃ، الحدیث۳۴۴۳، ص۲۶۸۴)
گیارہویں آفت :مذاق اُڑانااورتَمَسْخُر کرنا:
    یہ بھی حرام ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ
ترجمۂ کنزالایمان:نہ مرد مردوں سے ہنسیں۔(پ26،الحُجُرٰت:11)

    اس کامعنٰی دوسرے کی توہین کرنا،اسے حقیرجاننااوراس کے عیبوں سے آگاہ کرنا ہے اور بعض اوقات یہ چیز اس کے قول وفعل کی نقل اتارنے کے ذریعے پائی جاتی ہے۔

    سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''لوگوں کامذاق اڑانے والے کے لئے جنت کادروازہ کھولاجائے گااورکہاجائے گا آؤ! آؤ! وہ غم اور تکلیف کی حالت میں آئے گا جب وہ آئے گا تواس پردروازہ بندکردیاجائے گا۔ پھردوسرادروازہ کھولاجائے گا اور کہا جائے گاآؤ!آؤ!وہ غم والم میں آئے گا جب وہ آئے گاتواس پروہ دروازہ بندکردیاجائے گا،اسی طرح مسلسل ہوتارہے گا،یہاں تک کہ اس کے لئے دروازہ کھولاجائے گااورکہاجائے گاآؤ!آؤ!تووہ نہیں آئے گا۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ما نُھی عنہ العباد ان یسخر بعضھم من بعض، الحدیث ۲۸۷،ج۷،ص۱۸۴)
    حضرت سَیِّدُنامعاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَیَّرَاَخَاہُ بِذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْہُ لَمْ یَمُتْ حَتّٰی یَعْمَلَہٗ۔
ترجمہ:جوآدمی اپنے( مسلمان)بھائی کواس کے کسی گناہ پر عار دِلاتا ہے جس سے وہ توبہ کرچکاہو، توعار دِلانے والامرنے سے پہلے اس عمل میں مبتلاہوگا۔
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی وعید من عیرأخاہ بذنب، الحدیث۲۵۰۵،ص۱۹۰۳)
Flag Counter