Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
24 - 415
مؤمن عالم ہے کہ جب اس کی ضرورت پڑے تو نفع دے اور جب اس سے بے نیازی برتی جائے تو وہ بھی بے نیاز ہو جائے۔''
(شعب الایمان للبیہقی،باب فی طلب العلم ،فصل فضل العلم وشرفہ ،الحدیث۱۷۲۰،ج۲،ص۲۶۹،مفہوماً)
    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:'' ایمان بے لباس ہے، اس کا لباس تقوی ،اس کی زینت حیاء اور اس کاپھل علم ہے۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب الالف ،الحدیث۳۸۰،ج۱،ص۷۲)
    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: ''لوگوں میں درجۂ نبوت کے زیادہ قریب علماء اور مجاہدین ہیں۔ علماء ،انبیاء کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں جبکہ مجاہدین انبیاء کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی شریعت (کی حفاظت) کے لئے اپنی تلواروں سے جہاد کرتے ہیں۔ ''
(سیر أعلام النبلاء ،الطبقۃ الخامسۃ والعشرون ،الرقم۴۳۳۷،الحسینی محمد بن محمد بن زید ،ج۱۴، ص۵۲،مختصرًا)
    حضورنبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''عالم زمین میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا امین ہوتا ہے۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب العین ،الحدیث۴۰۳۶،ج۲،ص۸۳)
    حضور سیِّدُ المبلغین، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے:'' بروزِقیامت تین طرح کے لوگ سفارش کریں گے (۱)انبیاء علیہم السلام(۲) علماء اور(۳) شہداء۔''
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الزھد ،باب ذکر الشفاعۃ ،الحدیث۴۳۱۳،ص۲۷۳۹)
    ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنافتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حاضرین سے استفسارفرمایا:''جب مریض کو کھانے پینے اور دواء سے روک دیا جائے توکیا وہ مرنہیں جاتا؟ ''لوگوں نے عرض کی :''جی ہاں۔'' توآپ نے فرمایا:'' یہی معاملہ دل کا ہے جب اسے تین دن تک علم و حکمت سے روکا جائے تو وہ بھی مرجاتا ہے۔''

    مصنف (یعنی امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ القوی )فرماتے ہیں:''حضرت سَیِّدُنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے سچ فرمایا کیونکہ دل کی غذا ء علم و حکمت ہے اور ان دونوں سے دل زندہ رہتا ہے جیسے جسم کی غذا کھانا پینا ہے پس جس نے علم کو نہ پایا اس کا دل بیمار ہے اور اس کی موت یقینی ہے لیکن اسے اس بات کا شعور نہیں ہوتا کیونکہ دنیا میں مشغولیت اس کے احساس کو ختم کر دیتی ہے اور جب موت ان مشاغل کو ختم کردیتی ہے تو وہ بہت زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور اسے بے انتہاء افسوس ہوتا ہے اور نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرما نِ عالیشان:
''اَلنَّاسُ نِیَامٌ فَاِذَا مَاتُوْا اِنْتَبَھُوْا
ترجمہ :لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مرجائیں گے تو بیدار ہو
Flag Counter