Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
23 - 415
حصَّہ اوَّل

عبادات

باب1:         علم سیکھنے اور سکھانے کا بیان

علم کے فضائل پرآیات مبارکہ:
  علم کی فضیلت کے بارے میں قرآن مجید میں بے شمار دلائل ہیں۔چنانچہ،

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
 (1) یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پ 28، المجادلہ: 11)

    حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :''علماء کرام ،عام مؤمنین سے سات سو درجے بلند ہوں گے اور ہر دو درجوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہوگی۔''
(2) قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔(پ23، الزمر: 9)
(3)اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ22، فاطر: 28)
(4) وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا یَعْقِلُہَاۤ اِلَّا الْعَالِمُوۡنَ ﴿43﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ (پ20 ،العنکبوت:43)

علم کے فضائل پراحادیث مبارکہ:

    حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''علماء ،انبیاء (علیہم السلام)کے وارث ہیں۔''
    (سنن ابی داؤد ،کتاب العلم ،باب فی فضل العلم ،الحدیث۳۶۴۱،ص۱۴۹۳)
    نبئمُ کَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''لوگوں میں سے افضل وہ
Flag Counter