Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
238 - 415
    اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاارشاد فرماتی ہیں، رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ایک غلام کولعن طعن کرتے سنا ،تواُن کی طرف متوجہ ہو کردویاتین مرتبہ ارشاد فرمایا: ''اے ابوبکر!کیا صدیق بھی ہو اورلعن طعن بھی کرے ،ربِّ کعبہ کی قسم!ایسانہیں ہوسکتا۔''حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی دن اپناغلام آزاد کر دیا اورنبئ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوئے اورعرض کیا:'' میں دوبارہ یہ کلمات نہیں کہوں گا۔''
   (الادب المفرد للبخاری، باب من لعن عبدہ فأعتقہ، الحدیث۳۲۲، ص۱۰۰۔۱۰۱)
    جان لو!جس شخص کے لئے شریعت میں ملعون ہوناثابت ہوجیسے ابوجہل ، فرعون وغیرہ توایسوں پرلعنت بھیجنے میں حرج نہیں لیکن بندہ ان پرلعنت نہ بھیجے توبھی کوئی حرج نہیں اورجہاں تک یہودی کا تعلق ہے تواس پرلعنت بھیجنے میں خطرہ ہے کیونکہ ممکن ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی قسمت میں اسلام قبول کرنالکھ دیاہو،تواس صورت میں لعنت بھیجنے میں خطرہ ہے لیکن اگرکوئی قید لگا کر لعنت بھیجنا چاہے تووہ یوں کہے:'' اگروہ حالتِ کفر پر مرے تواس پرلعنت ہو۔''حاصلِ کلام یہ کہ ابلیس (یعنی شیطان) پر لعنت نہ بھیجنے میں کوئی حرج نہیں چہ جائیکہ کوئی دوسراہو،چنانچہ لعنت نہ کرنااور اس سے زبان کوبچاناہی بہترہے۔
نویں آفت :گانے گانا اورشعرکہنا:
    گانے کے بارے میں سماع کے باب میں ذکرگزرچکا ہے،اورجہاں تک شعرکاتعلق ہے توکلام اچھاہوتواچھاہے اور برا ہو تو برا۔ لیکن شعر کہنے کو پیشہ بنا لینا مذموم ہے۔چنانچہ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
لَأَنْ یَّمْتَلِیَ بَطْنُ اَحَدِکُمْ قَیْحاً خَیْرٌ لَّہ، مِنْ أَنْ یَّمْتَلِیَ شِعْرًا۔
ترجمہ:تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھرجانا اشعار سے بھر جانے سے بہتر ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مایکرہ أن یکون الغالب علی الانسان الشِعْر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۱۵۴،ص ۵۱۹)
    (غلط)اشعار پر مداومت اختیارکرنااوران کے لئے سفرکرناممنوع ہے مگر صحیح اشعار کے جوازپربہت سی احادیث وارد ہیں۔
دسویں آفت : ہنسی مز ا ح کرنا :
    مزاح کی اصل یہ ہے کہ اس سے روکاگیاہے اوریہ مذموم ہے البتہ تھوڑاساہوتوجائزہے،نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :
'' لَا تُمَارِ اَخَاکَ وَلاَ تُمَازِحْہ،
ترجمہ:نہ اپنے بھائی کی بات کاٹو اور نہ اس کا مذاق اڑاؤ۔''
   (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المراء، الحدیث۱۹۹۵، ص۱۸۵۲)
Flag Counter