Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
237 - 415
چھٹی آفت :تکلّف اوربناوٹ سے گفتگوکرنا:
    تکلّف کے ساتھ فصاحت وبلاغت سے بھر پور اوربناوٹی کلام کرنا۔اللہ کے رسول، رسولِ مقبول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اَنَاوَاَتْقِیَاءُ اُمَّتِیْ بَرَاءٌ مِّنَ التَّکَلُّفِ۔
ترجمہ:میں اورمیری امت کے پرہیزگارلوگ تکلف سے بری ہیں ۔

    حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ،حضور نبئ رحمت،شفیعِ اُمت ،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''میری امت کے بُرے لوگ وہ ہیں جوطرح طرح کی نعمتوں سے پروان چڑھتے ہیں،مختلف قسم کے کھانے کھاتے ہیں، طرح طرح کے لباس پہنتے ہیں اور(تکلف کے ساتھ) گفتگو کرتے ہیں۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم۱۴۶۶۔عبدالحمید بن جعفر بن الحکم الانصاری،ج۷،ص۴)
ساتویں آفت :گالی گلوچ اورفُحش کلامی کرنا:
    یہ بھی قابلِ مذمّت ہے۔چنانچہ نبی اَکرم،،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اِیَّاکُمْ وَالْفُحْشَ فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَاالتَّفَحُّشَ۔
ترجمہ:فحش کلامی سے بچو،بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ فحش کلامی اور بتکلف فحش کلام کرنے کوپسندنہیں فرماتا۔
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الغصب، الحدیث۵۱۵۴،ج۷،ص۳۰۷)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے غزوۂ بدرمیں قتل ہونے والے مشرکین کوگالی دینے سے منع فرمایااور ارشاد فرمایا
: ''اَلْبَذَاءُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ
ترجمہ: فحش گوئی اور کثرتِ کلام نفاق کے دو شعبے ہیں۔''
 (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی العَیِّ، الحدیث۲۰۲۷،ص۱۸۵۴)
آٹھویں آفت :لعنت کر نا:
    لعنت خواہ حیوانات وجمادات پرکی جائے یاانسان پر( مذموم ہے)،سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے :
''اَلْمُوْمِنُ لَیْسَ بِلَعَّانٍ
ترجمہ:مؤمن لعنت کرنے والانہیں ہوتا۔''
 (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی اللعنۃ، الحدیث۱۹۷۷،ص۱۸۵۰)
    حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:'' جوقوم کسی پرلعنت بھیجتی ہے تو اس پراللہ عَزَّوَجَلَّ کاعذاب ثابت ہو جاتا ہے۔''
Flag Counter