ترجمہ:اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو،نہ اس سے مذاق کرو اور اس سے وعدہ کرو تو اس کی خلاف ورزی نہ کرو۔
(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المراء، الحدیث۱۹۹۵، ص۱۸۵۲)
حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ خوشبودارہے:''جوشخص حق پرہونے کے باوجودجھگڑا چھوڑدے، اس کے لئے جنت کے اعلیٰ درجے میں گھربنایاجاتاہے، اورجو باطل ہونے کی وجہ سے جھگڑا چھوڑدے اس کے لئے جنت کے گردونواح میں گھربنایاجاتاہے۔
(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المراء، الحدیث۱۹۹۳،ص۱۸۵۱، اعلٰی بدلہ وسط)
پانچویں آفت: لڑائی جھگڑا کرنا:
یعنی انسان کا دوسرے کاحق یامال حاصل کرنے کے لئے جھگڑنا اور یہ بھی قابلِ مذمت ہے۔اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے، شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اَبْغَضُ الرِّجَالِ اِلَی اللہِ اَلْاَلَدُّ الْخَصَمُ
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو بہت زیادہ جھگڑا لو ہو۔
(صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب قول اﷲ تعالی:وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ، الحدیث۲۴۵۷، ص ۱۹۳)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ جَادَلَ فِی خُصُوْمَۃٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَمْ یَزَلْ فِیْ سُخْطِ اللہِ حَتّٰی یَنْزِعَ۔
ترجمہ:جوشخص بے جاجھگڑتاہے، وہ ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی میں ہوتاہے ،یہاں تک کہ اسے چھوڑدے۔
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ذم الخصومات، الحدیث۱۵۳،ج۷،ص۱۱۱)