| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کرے جن کی ضرورت نہ ہو۔حضرت سَیِّدُناعطابن ابی رباح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: تم سے پہلے لوگ فضول کلام کوناپسندکرتے تھے۔ مثال کے طور پر یہ بات بھی فضول ہے کہ تم کہو،''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !اس کُتّے کودورفرما۔''
حضرت سیِّدُنا مطرَّف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت کالحاظ رکھا کرواور کُتّے یاگدھے کانام لیتے وقت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرنہ کرومثلاً یہ نہ کہو:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !انہیں دورکردے وغیرہ وغیرہ۔''
فضول گوئی کی کوئی حدنہیں۔ نبئ اَکرم ،نورِ مجسم، شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:طُوْبٰی لِمَنْ اَمْسَکَ الْفَضْلَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ اَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَّالِہٖ
ترجمہ:اس شخص کو مبارک ہو جواپنی زبان کو فضول گوئی سے روک لے اوراپنے زائد مال کوخرچ کردے۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزکاۃ، فصل فی کراھیۃ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۳۳۸۸،ج۳،ص۲۲۵، لسانہ:بدلہ: قولہ)
حضرت سیِّدُنا بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''کوئی شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاوالا ایساکلمہ کہتاہے جس کے بارے میں اس کاخیال نہیں ہوتاکہ وہ کس بلندی تک پہنچے گا مگراس کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت تک اس کے لئے اپنی رضالکھ دیتاہے اورکوئی آدمی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی والا ایک کلمہ کہتاہے ،حالانکہ وہ شخص اسے معمولی سمجھتاہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے سبب قیامت تک اس کے لئے ناراضگی لکھ دیتا ہے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب النھی عن فضول الکلام والخوض فی الباطل، الحدیث۷۰،ج۷،ص۶۷۔۶۸)
( امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ )حضرت سیِّدُنا علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے تھے: حضرت سیِّدُنا بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت نے مجھے اکثرباتوں سے روکاہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ایک شخص ایسی بات کہتاہے جس کے ذریعے اپنے پاس بیٹھنے والوں کوہنساتا ہے ،مگر وہ اس کے باعث ثریا(ستارے)سے بھی زیادہ دور جا گرتا ہے ۔''
(الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب النھی عن فضول الکلام، الحدیث ۷۱، ج۷، ص۶۸۔۶۹)
تیسری آفت :گناہوں کے متعلق کلام کرنا:
تیسری آفت یہ ہے کہ گناہوں کے متعلق گفتگوکرنا جس طرح عورتوں کے حالات، شراب کی مجالس اوربدکاروں کے مقامات کا ذکر کرنا اسی جانب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں اشارہ ہے:
وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَآئِضِیۡنَ ۙ﴿45﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اوربیہودہ فکروالوں کے ساتھ بیہودہ فکر یں کرتے تھے۔ (پ29،المدثر:45)