| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے منہ میں چھوٹے چھوٹے پتھررکھتے تھے، جن کے ذریعے گفتگو سے پرہیزکرتے ،نیزآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرماتے:''اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں پہنچایا۔''
حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سواکوئی معبودنہیں!کوئی چیز زبان سے زیادہ قیدکی محتاج نہیں۔''
اب ہم زبان کی آفات بیان کریں گے، پہلے چھوٹی آفات کو بیان کریں گے پھر درجہ بدرجہ بڑی آفات بیان کی جائیں گی۔پہلی آفت: بے مقصد کلام کرنا:
جان لو!جب تم بے مقصدگفتگوکروگے، یعنی ایسی گفتگوجس کی تمہیں حاجت نہیں،تواپناوقت ضائع کروگے اوراس کے ذریعے اپنے آپ کوحساب وکتاب کے لئے پیش کروگے، تواس طرح تم اچھی چیزدے کراس کے بدلے بری چیزلینے والے بن جاؤ گے ،کیونکہ اگرتم اس کی بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرتے یاخاموش رہتے یاغورو فکر میں مشغو ل رہتے تواس کے نتیجے میں بلند درجات پالیتے۔
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:مِنْ حُسْنِ اِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہ، مَالَایَعْنِیْہِ۔
ترجمہ:انسان کے اسلام کی اچھائی، فضول باتوں کو ترک کر دینا ہے۔
(جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب حدیث: من حسن اِسلام المرء ترکہ مالایعنیہ، الحدیث۲۳۱۷،ص۱۸۸۵)
حضرت سَیِّدُناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن ہماراایک غلام شہیدہوگیا،ہم نے اسے بھوک کی وجہ سے پیٹ پرپتھرباندھے ہوئے پایا،اس کی ماں نے اس کے چہرے سے گردوغبارصاف کرتے ہوئے کہا: اے بیٹے !تمہیں جنت مبارک ہو۔تونبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟(کہ یہ جنتی ہے)ہوسکتاہے یہ فضول کلام کرتا ہو اور ایسی گفتگوسے منع کرتاہوجو اسے نقصان نہ پہنچاتی تھی۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب النھی عن الکلام فیما لایعنیک، الحدیث۱۰۹، ج ۷ ، ص ۸۵)
جان لو!بے مقصد کلام یہ ہے کہ تومجلس میں ایسے سچے واقعات بیان کرے جو دورانِ سفر تجھے پہاڑوں اور جنگلوں میں پیش آئیں۔
دوسری آفت: فضول گوئی کرنا:
دوسری آفت یہ ہے کہ توایسی بات کا تکرار کرے جس کے تکرار کرنے کاکوئی فائدہ نہ ہواور اس میں زیادہ الفاظ استعمال