| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جان لو!زبان کاخطرہ بہت بڑاہے اوراس کے خطرے سے نجات صرف خاموشی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبئ اکرم،نورِ مجسم، شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خاموشی کی تعریف کی اورخاموش رہنے کی ترغیب دی ۔
چنانچہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''مَنْ صَمَتَ نَجَا
ترجمہ:جوخاموش رہااس نے نجات پائی۔''
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث من کان یؤمن اﷲ فلیکرم ضیفہ، الحدیث۲۵۰۱،ص۱۹۰۳)
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :
''اَلصَّمَتُ حِکَمٌ وَقَلِیْلٌ فَاعِلُہٗ
ترجمہ: خاموشی حکمت ہے اوراِسے اختیارکرنے والے کم ہیں۔''
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عما لا یعنیہ، الحدیث۵۰۲۶،ج۴،ص۲۶۴)
شہنشاہِ نبوت،پیکرِ جود و حکمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:
مَنْ یَّتَکَفَّلُ لِیْ مَابَیْنَ لِحْیَیْہِ وَرِجْلَیْہِ اَتَکَفَّلُ لَہُ بِالْجَنَّۃِ
ترجمہ:جوشخص مجھے دوجبڑوں کے درمیان والی چیز( یعنی زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز( یعنی شرمگاہ)کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللِّسان، الحدیث۶۴۷۴،ص۵۴۳،مفہومًا)
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!مجھے وصیت فرمائیں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس طرح عبادت کرگویا تواسے دیکھ رہا ہے، اپنے آپ کومرنے والوں میں شمارکر،اوراگرتو چاہے تومیں تجھے بتاؤں ،کہ تیرے لئے کون سی چیز بہتر ہے، پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب حفظ اللسان وفضل الصَمت، الحدیث۲۲، ج۷، ص۲ ۴۔۴۳)
حضرت سیِّدُنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کیاہماری گفتگوپربھی مؤاخذہ ہوگا؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے ابنِ جبل!تیری ماں تجھ پر روئے، لوگوں کوان کے نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی (یعنی گفتگو)کے سوا اور کیا ہے۔
(جامع الترمذی، ابواب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، الحدیث۲۶۱۶،ص۱۹۱۵)