Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
231 - 415
کے ساتھ نکاح کرانے پر متفق ہوئے، تو انہوں نے حضرت سیِّدَتُنارابعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کی طرف لکھا:
''بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،اَمَّا بَعْدُ!
یعنی حمدوصلوٰۃ کے بعد!اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیاکے مال سے روزانہ مجھے اَسّی ہزاردرہم کامالک بناتا ہے، کچھ دن بعدیہ ایک لاکھ ہوجائیں گے ،میں تمہارے لئے ایسا ایسا کروں گاپس تم میری دعوتِ نکاح قبول کر لو۔''

    حضرت سیِّدَتُنا رابعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے انہیں جواب میں لکھا:
''بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،اَمَّا بَعْدُ!
دنیاسے بے رغبتی میں بدن کی راحت ہے اوردنیاکی رغبت، پریشانی اورغم کاباعث ہے۔ جب تمہارے پاس میرایہ خط پہنچے، تواپنے لئے زادِراہ تیارکرکے آخرت کی تیاری کرو، اپنے نفس کو وصیت کرنے والے بنو، دوسرے لوگوں کواپناوصی مقررنہ کرو، وہ تمہاری میراث کوتقسیم کرلیں گے، ہمیشہ روزہ رکھو اورموت پرہی افطار کرو اور جہاں تک میراتعلق ہے، تواگراللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس قدر دولت عطا فرمائے، جس قدرتمہیں دی ہے ،بلکہ اس سے بھی دُگنی عطافرمائے تب بھی مجھے یہ بات پسندنہیں ہوگی کہ میں پلک جھپکنے کی دیربھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل ہو جاؤں۔''

    اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جوچیز اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل کردے وہ نقصان دِہ ہے۔
شہوت کی مخالفت کرنے پرفضیلت :
    جان لو!پاکدامنی یہ ہے کہ وہ شہوت پرقادرنہ ہواورقدرت ہونے کے باوجودشہوت کی مخالفت کرنا افضل ہے اوریہ صدیقین کادرجہ ہے اسی لئے نبئ اکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَشَقَ فَعَفَّ فَکَتَمَ فَمَاتَ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔
ترجمہ:جسے عشق ہوا اور اس نے پاک دامنی اختیارکرتے ہوئے اسے چھپایا اوراسی حالت میں مر گیا تووہ شہید ہے۔
(کنز العمال،کتاب الجہاد،الحدیث۱۱۱۹۹،ج ۴،ص۱۸۰)
    حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ رحمت نشان ہے:''سات آدمی ایسے ہیں جنہیں بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا،جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا،اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان (سات افراد)میں اس شخص کوبھی شمارفرمایاجسے کوئی حسب ونسب والی حسین وجمیل عورت(برے کام کی ) دعوت دے تووہ کہے: میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر تا ہوں جو تمام جہانوں کارب ہے۔''
 (جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ماجاء فی الحب فی اﷲ، الحدیث۲۳۹۱،ص۱۸۹۲)
    حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسارعلیہ رحمۃ اللہ الغفار کے بارے میں مروی ہے کہ آپ بہت خوبصورت تھے۔ ایک عورت آپ
Flag Counter