Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
230 - 415
مُرید پرنکاح کرنا واجب ہے یا ترک کرنا:
    جان لو!مرید کو اپنے ابتدائی مرحلے میں مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو نکاح میں مشغول نہ کرے جیساکہ گزر چکا ہے، کہ یہ چیزاسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے سے روک دے گی، اسی لئے حضرت سَیِّدُناابوسلیمان دارانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''جوشخص شادی کرتاہے وہ دنیاکی طرف جھک جاتاہے۔'' نیزانہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ''میں نے کسی مریدکونہیں دیکھاجوشادی کے بعدپہلی حالت پررہاہو۔''

    جان لو! اگرتم اپنے آپ کو اللہ کے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرقیاس کرو، تویہ تمہاری بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کودنیااورآخرت کی کوئی چیز بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل نہیں کرتی اوراسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فرمانِ عالیشان میں اشارہ فرمایا:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی ﴿17﴾
ترجمۂ کنزالایمان:آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حدسے بڑھی ۔(پ27 ،النجم:17)

    کیونکہ کوئی چیز نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یادسے غافل نہیں کرسکتی، پس جب تجھ پرشہوت غالب ہوتوتجھے روزہ،بھوک، پیاس،اوربیداری اختیارکرنی چاہے،غالب گمان یہی ہے کہ ان چیزوں سے شہوت ختم ہوجائے گی ،لیکن یہ خلافِ عادت حدسے زیادہ ہواوروہ آنکھ پرقابو نہ رکھ سکتا ہوتواس خصوصی حالت کی وجہ سے اس کے لئے نکاح کرناضروری ہے، تاکہ وہ راحت پالے ،کیونکہ جوشخص آنکھ کی حفاظت پرقدرت نہ رکھے وہ دل پرکیسے قابو پاسکتاہے اورجب بندے کی سوچ منتشررہے تو اس کے لئے مجرّد(یعنی شادی کے بغیر) رہنے کاکوئی فائدہ نہیں ،بلکہ اس پراس چیزکاخوف ہے جو حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمائی:''اپنی نظرکی حفاظت کرو،کیونکہ یہ دل میں شہوت کابیج بوتی ہے اورفتنہ کے لئے یہی کافی ہے۔''

    حضرت سیِّدُنا سعیدبن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، حضرت سیِّدُنا داؤدعلیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نظرکی وجہ سے آزمائش میں پڑے، اس لئے آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا سلیمان علیہ السلام سے فرمایا:''اے بیٹے! شیر اور سانپ کے پیچھے چلو،لیکن عورت کے پیچھے نہ چلو۔''حضرت سیِّدُنا یحیی بن زکریاعلیہ السلام سے پوچھاگیا: ''زناکی ابتداء کیا ہے ؟'' آپ نے فرمایا: ''دیکھنا اورخواہش کرنا۔''

     اگرمرید کا نفس اس سے ایسی چیز کا مطالبہ نہ کرے جس کو وہ ختم نہیں کرسکتاتو اس کے لئے نکاح نہ کرنابہتر ہے۔

    حضرت سیِّدُنا محمدبن سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں مروی ہے، کہ ان کوہر ر وز اَسّی ہزاردرہم آمدنی ہوتی، انہوں نے اہل بصرہ اوران کے علماء کولکھا ،کہ وہ کسی عورت سے ان کی شادی کرادیں۔ وہ سب حضرت سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا
Flag Counter