Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
229 - 415
الشَّیْطَانِ
ترجمہ: عورتیں شیطان کی رسیاں ہیں۔''
 (مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب کلام ابن مسعود، الحدیث۳۷،ج۸،ص۱۶۲)
    اگریہ شہوت نہ ہوتی تو عورتیں مردوں پر مسلَّط نہ ہوتیں۔

    ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام اپنی مجلس میں تشریف فرماتھے ،کہ ابلیس آپ علیہ السلام کے سامنے آیا اور اس کے سرپر ایک ٹو پی تھی جس میں کئی رنگ چمک رہے تھے۔ جب وہ آپ علیہ السلام کے قریب ہوا تو ٹوپی اتار کر رکھ دی اور آ پ کو سلام کیا ،آپ علیہ السلام نے پوچھا:'' تو کون ہے؟'' اس نے کہا:'' میں ابلیس ہوں۔'' آپ علیہ السلام نے فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے زندہ نہ رکھے، توکیوں آیا؟'' اس نے جواب دیا:'' چونکہ آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں ایک مقام و مرتبہ حاصل ہے اس لئے آپ علیہ السلام کی خدمت میں سلام عرض کرنے حاضر ہوا ہوں۔'' آپ علیہ السلام نے پوچھا: ''میں نے تیرے سر پرجو دیکھاوہ کیا ہے ؟'' اس نے جواب دیا:'' اس کے ذریعے میں انسانوں کے دل اُچک لیتا ہوں۔'' آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا :''وہ کون سا ایسا عمل ہے جس کے ذریعے تو انسان پر حاوی ہو جاتا ہے؟''شیطان نے جواب دیا: ''جب وہ اپنے آپ پر اِترانے لگتاہے ، اپنے اعمال کو زیادہ جانتا ہے اور گناہوں کو بھول جاتا ہے۔''(پھر کہنے لگا)میں آپ کوتین باتوں سے ڈراتا ہوں:(۱) کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کریں،کیونکہ جو شخص ایسی عورت کے ساتھ علیحدگی میں ہوتا ہے، جو اس کے لئے حلال نہیں، تو میں اپنے کارندوں کو بھیجنے کی بجائے خود وہاں جاتا ہوں، یہاں تک کہ انہیں فتنہ میں مبتلا کردیتا ہوں (۲)جب اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کریں تو اسے پورا کریں اور (۳) جب صدقہ کا مال نکالیں، تو اسے خرچ کردیں ،کیونکہ جب کوئی شخص صدقہ کا مال الگ کرکے رکھتاہے، تو میں اسے خرچ کرنے میں رکاوٹ بن جاتاہوں۔'' پھر شیطان یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا:''ہائے افسوس ! حضرت موسیٰ کو وہ بات معلوم ہوگئی جس کے ذریعے میں لوگو ں کو دھوکا دیتا ہوں۔''

    کبھی صاحبِ شہوت کا معاملہ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ عضوِ مخصوص سے عشق کرتا ہے اور اسی مقام سے حاجت کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ چوپایوں میں زیادہ پائی جاتی ہے ،یہ مذموم ہے اور زیادتی ہمیشہ مذموم ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حد تک شہوت کا غلبہ ہو، کہ اُس کے آثار عقل کی اطاعت نہ کریں اور عنّین (یعنی نامر د) کے حق میں شہوت کا بالکل نہ ہونا بھی مذموم ہے، اور بہترین امور وہ ہیں جواعتدال پر ہوں۔جب شہوت حد سے بڑھ جائے تو اسے بھوک یا نکاح کے ذریعے ختم کرے۔ 

    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اے نوجوانوں کے گر وہ! تم پر نکاح کرنا لازم ہے ،پس جو عورت کے حقوق پورے کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ،وہ رو زے رکھے کیونکہ یہ جنسی خواہش کوکم کر دیتے ہیں۔''
   (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباءۃفلیصم، الحدیث۵۰۶۶،ص۴۳۸،مفہومًا)
Flag Counter