Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
228 - 415
    حضرت سیِّدُنا امام جعفر بن محمد صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:'' جب مجھے کوئی خواہش ہوتی ہے ،تو میں اپنے نفس پر نگاہ ڈالتاہوں، اگر ظاہر میں اس کی تمنا پاتاہوں ،تو اسے کھِلادیتاہوں، کیونکہ اس کے روکنے سے یہ افضل ہے اوراگر خواہش پوشیدہ ہو اورظاہر میں ترک کرنا چاہتاہے، تو اسے چھوڑنے کے ذریعے سزادیتاہوں اور اس میں سے کچھ نہیں کھاتا،تو اس پوشیدہ خواہش پر نفس کو سزاد ینے کا یہ طریقہ ہے ۔

    جان لو ! جو کھانے کی خواہش ترک کر دیتا ہے، لیکن ریاکاری میں پڑتاہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو بچھوسے بھاگ کر سانپ کے پاس چلا جائے۔
شرمگاہ کی شہوت توڑنے کا طریقہ:
    جان لو! دو فائدو ں کے لئے انسا ن کو جماع کی لذّت دی گئی:

    پہلا فائدہ: یہ ہے کہ اس سے لذّت حاصل کر کے اس پر آخرت کی لذّت کویاد کرے، کیونکہ اگر جماع کی لذت دیرپا ہوتی، تو تمام جسمانی لذَّات سے قوی ہوتی، جس طرح آگ کی تکلیف جسم کی تمام تکالیف سے بڑھ کر ہے۔

    دوسرا فائدہ: یہ ہے کہ اس میں نسل کی بقاء اور وجود کادوام ہے۔ لیکن ان دو فائدوں کے علاوہ اس میں ایسی آفات ہیں، کہ اگر انہیں قابو کر کے اعتدال کی حد کی طر ف نہ لوٹایا جائے تو وہ دین ودنیا کو ہلاک کر دیتی ہیں ۔

     اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:
''مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:جس کی ہمیں سہار (برداشت ) نہ ہو۔  (پ ۳، البقرۃ : ۲۸۶)'' کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شہوت کی شدّت ہے اور حضرت سیِّدُنا ابن ِعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان :''وَمِنْ شَرِّغَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ0(پ۳۰ ، الفلق :۳)ترجمۂ کنزالایمان:اور اندھیر ی ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے ۔'' کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد عضوِ مخصوص کا منتشر ہونا ہے۔

     بعض راویوں نے اس حدیث کو نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف منسوب کیا ہے ،کہ سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب و سینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمیوں دعا فرمایا کرتے تھے:
''اَعُوْ ذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَقَلْبِیْ وَمَنِیِّیْ
ترجمہ:یا اللہ! میں اپنے کانوں، آنکھوں ، دل اور مادہ منوِیّہ کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔''
 (سنن ابی داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستعاذۃ، الحدیث۱۵۵۱،ص۱۳۳۷)
    حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیاح افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:
''اَلنِّسَاءُ حَبَائِلُ
Flag Counter