Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
227 - 415
سے انہیں روحانی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے فرمان میں اسی طرف اشارہ فرمایا:
''اَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ
ترجمہ:میں اپنے رب کے ہاں رات گزارتا ہوں، میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔''
    (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب التنکیل لمن أکثر الوصال، الحدیث۱۹۶۵،ص۱۵۳)
    دوسرا درجہ: یہ ہے کہ وہ دو سے تین دن تک کچھ نہ کھائے اوریہ عادت ہے۔

    تیسرا درجہ : یہ ہے کہ دن رات میں صرف ایک بار کھانے پر اکتفاء کرے اور یہ سب سے کم درجہ ہے۔

    حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم جب صبح کھاناکھاتے ،تو شام کو نہ کھاتے اورشام کو تناول فرماتے تو صبح نہ کھاتے۔''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی المطاعم والمشارب، فصل فی ذم کثرۃالأکل، الحدیث۵۶۴۴،ج۵،ص۲۷)
    حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا:
اِیَّاکِ وَالْاِسْرَافَ فَاِنَّ اَکَلَتَیْنِ فِیْ یَوْمٍ مِنَ السَّرْ فِ۔
ترجمہ:اسراف سے بچو ،دن میں دوبار کھانا اسراف ہے۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی المطاعم والمشارب، فصل فی ذم کثرۃالأکل، الحدیث۵۶۴۰،ج۵،ص۲۶، بتغیرٍ قلیلٍ)
    جان لو!وہ بھوک قابلِ تعریف ہے، جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل نہ کرے، کیونکہ جب یہ حد سے تجاوز کرتی ہے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل کردیتی ہے، مگر جس شخص پرشہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو،تو وہ ان شہوتوں کو ختم کرنے کے لئے ایسا کرسکتاہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اعتدال کی راہ سب سے بہتر ہے۔

    پھر اس خواہش کو چھوڑ نے میں دو آفتیں ہیں، جن سے بچنا بہت ضروری ہے:

    (۱) بعض اوقات انسان اکیلے میں تو کھاتا ہے، لیکن لوگوں کے مجمع میں نہیں کھاتا ،تو یہ شرک خفی ہے اوراکثر یہ انسان کو نِفاق تک لے جاتا ہے۔ 

    (۲)انسان پسند کرتاہے کہ اسے کم کھانا کھانے والا اور پاک دامن سمجھا جائے ،تو اس صورت میں وہ چھوٹی آفت کو چھوڑکر اس سے بڑی چیز، یعنی جاہ وشہرت کی خواہش کا مرتکب ہوجاتاہے ۔

    حضر ت سیِّدُنا ابو سلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنّان فرماتے ہیں کہ :''جب تمہیں کوئی خواہش ہو اورتم اسے چھوڑناچاہتے ہو،تو اس میں سے تھوڑا سالے لو، نفس کی مرضی کے مطابق نہ کھاؤ، تو گویا تم نے اپنے آپ کو خواہش سے دور کردیا اورنفس کی خواہش کو پورا نہ کر کے اسے بھی ٹھیس پہنچائی، پس یہ نفس کی شہوت کو ترک کرنااورنفس کی اطاعت نہ کرناہے۔
Flag Counter