Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
226 - 415
آگے نہ بڑھے لیکن اس میں خطرہ ہے، کیونکہ ہوسکتاہے کہ وہ سچی بھوک پرآگاہ نہ ہو سکے اوراس پر معاملہ مشتبہ ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ:'' سچی بھوک کی علامت یہ ہے کہ وہ سالن کا مطالبہ نہ کرے ''اورایک قول یہ بھی ہے کہ:'' وہ روٹیوں کے درمیان فرق نہ کرے (یعنی ایک روٹی کو دوسری پر ترجیح نہ دے )۔''

    جان لو !یہ حالت اشخاص کے مختلف ہونے سے بدلتی رہتی ہے اس لئے کھانے کی مقدار کا تعین ممکن نہیں،لہٰذا ہر شخص اپنے نفس میں غوروفکر کرے۔

    حضرت سیِّدُنا سہل تستری علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں:'' اگر دنیا موٹے تازے جانور کا خون ہوتی ،تو بھی مؤمن کی روزی حلال ہی ہوتی ،کیونکہ مؤمن ضرورت کے وقت کھاتا ہے اورصرف اتنا کھاتاہے جس سے اسے قوت حاصل ہوجائے۔''

    دوسرا وظیفہ: مریدین میں سے بعض کھانے کی مقدار کی بجائے فاقے کے ذریعے ریاضت کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تین دن،بعض تیس دن جبکہ بعض چالیس دن تک کچھ نہ کھاتے اوربہت سے علماء وصلحاء اورصوفیاء اس مدت تک پہنچے، حضرت سیِّدُنا سلیمان خواص ، حضرت سَیِّدُناسہل بن عبداللہ اورحضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رحمہم اللہ تعالیٰ انہی میں سے ہیں۔

    بعض علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم ارشاد فرماتے ہیں:'' جو شخص چالیس دن تک (رضا الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے ) کھاناچھوڑ دیتاہے، اس پر ملکوت سے قدرت کے اسرار ظاہر ہوجاتے ہيں، یعنی اس پر بعض اسرارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کھول دئیے جاتے ہیں۔''

    اسی گروہ کے ایک صوفی بزرگ کا گزرایک راہب کے پاس سے ہوا،تو اس نے اس کی حالت کے بارے میں گفتگوکی اوراسے اسلام کی طرف مائل کیا، راہب نے کہا: ''حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام چالیس دن تک کچھ نہ کھاتے تھے اور یہ معجزہ ہے ،جوصر ف سچے نبی ہی کو حاصل ہوتاہے ۔'' صوفی بزرگ نے اس سے کہا:'' اگر میں پچاس دن تک کچھ نہ کھاؤ ں، تو تم اپنے دین کو چھوڑ کردینِ اسلام میں داخل ہوجاؤگے ؟'' اس نے کہا:'' ہاں۔'' چنانچہ وہ صوفی بزرگ اس کے سامنے بیٹھ گئے ،حتیّٰ کہ پچاس دن تک کچھ نہ کھایا، پھر راہب سے کہنے لگے:'' میں ساٹھ دن تک اضافہ کرتاہوں۔'' اورساٹھ دن تک کچھ نہ کھایا۔ اس پر راہب کو تعجب ہوا اور کہنے لگا:'' میں نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص حضرت سیِّدُنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃو السلام سے بھی زیادہ دن بھوکارہ سکتاہے۔''پس یہی واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا ۔

    یہ بہت بڑا درجہ ہے اور اس تک صرف وہی لوگ پہنچتے ہیں،جوکشف ومجاہدہ میں مشغول ہوکر بھوک اورحاجت سے مستغنی ہوجاتے ہیں اوران کا نفس اس لذّت میں پورا حق وصول کرتاہے ،اس کو بھوک اورحاجت بُھلا دیتاہے، چنانچہ عالَمِ غیب