| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اعتبار سے کھانے کی مقدار(۲)جلد یا دیر سے، کس وقت کھایا جائے اور(۳)کھانے والی چیز کی قسم کا تعین۔
پہلاوظیفہ:کھانا کم کھانے کے سلسلہ میں تدریجاً(یعنی آہستہ آہستہ)ریاضت کا راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ جس شخص کو زیادہ کھانے کی عادت ہو وہ فوراً ہی کم کھانے کی طرف آجائے تو اس کا مزاج برداشت نہ کر سکے گاچنانچہ اپنے نفس کا خیال رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ کمی کرے، مثلاً اگر وہ ایک دن میں تین روٹیاں کھاتا ہے تو ہر روز روٹی کا تیسواں حصہ کم کرے۔ اس طرح ایک مہینہ میں ایک روٹی اوردومہینوں میں دوروٹیاں کم ہوجائیں گی اوراس پر یہ چیز گراں بھی نہ ہوگی اور یہ تدریج اس اعتبار سے ہوکہ جس پر وہ باقی رہ سکے اوراعتماد کرسکے۔کھانے کی مقدار کے اعتبار سے درجات:
کھانے کی مقدار کے اعتبار سے بھی درجات ہیں:
پہلا درجہ:صدیقین کا ہے کہ انہوں نے کھانے میں اتنی مقدار پر قناعت کی ،کہ جس سے زندگی اورعقل قائم رہ سکے اوراللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے فرمان میں اسی طرف اشارہ فرمایا:''حَسِبَ ابْنُ اٰدَمَ لُقَیْمَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہ
،ترجمہ:بندے کے لئے چند لقمے کا فی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں ۔ ''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الاطعمۃ، باب اقتصاد فی الأکل وکراھۃ الشبع، الحدیث۳۳۴۹،ص۲۶۷۹)
دوسرا درجہ:یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کو دن رات میں نصف مُد( یعنی آدھا کلو)کا عادی بنالے اوریہ روٹی کا وہ حصہ ہے، جو چار من (یعنی چارکلو)میں سے ہوتاہے اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادتِ مبارکہ اسی کے قریب تھی، آپ سات یا نو لقمے تناول فرماتے تھے۔
تیسرا درجہ: یہ ہے کہ وہ ریاضت کے ذریعے نفس کو دن رات میں مُد کا عادی بنائے، اس کی اڑھائی روٹیاں بنتی ہیں، اور یہ پیٹ کے تہائی سے زیادہ ہے۔
چوتھا درجہ:یہ ہے کہ وہ کھانے کی مقدار مُد سے ایک کلو تک لے جائے اوریہ انتہائی مقدار ہے، اس سے زیادہ کھانا اسراف ہے، قریب ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کے تحت داخل ہو جائے:وَّکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚ
ترجمۂ کنزالایمان : اورکھاؤ اورپیؤ اورحد سے نہ بڑھو۔ (پ8، الاعراف :1 3 )
اس کا ایک طریقہ اوربھی ہے کہ بھوک لگنے کے بعد کھانا کھایاجائے اورسیر ہونے سے پہلے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔ اس سے