حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے:''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں کے سامنے اس شخص پر فخر فرماتاہے ،جو دنیا میں کم کھاتا ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے:میرے بندے کی طرف دیکھو !میں نے دنیا میں اسے کھانے پینے کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا تو اس نے میرے لئے انہیں چھوڑ دیا۔اے میرے فرشتو! گواہ ہوجاؤ جو بندہ(میری خاطر) ایک لقمہ بھی چھوڑدے گا، میں اس کے بدلے اسے جنت کے درجات عطافرماؤں گا۔
حضرت سیِّدُنا ابو سَلما ن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''مجھے رات کے کھانے سے ایک لقمہ چھوڑ دینا ،رات بھر قیام کرنے سے زیادہ پسند ہے۔''
ہم نے واضح کر دیاکہ بھوک سے رِقَّت (یعنی نرمی )اورانکساری پیداہوتی ہے، اَکڑا ورغرور ختم ہوجاتاہے اوربھوک کا فائدہ یہ ہے،کہ انسان مصیبت ،اہلِ مصیبت ، عذاب اورتمام شہوات کے ختم کرنے کو نہیں بُھولتا، اسی کے ذریعے انسان نفس وشیطان پر غالب آکر اس پر تسلُط حاصل کرلیتاہے، اوراسی کے ذریعے انسان بیداری پر ہمیشگی اختیارکرتا اورنیند کو دورکرتاہے ، اسی لئے بعض شیوخ دسترخوان پر کھڑے ہوکر کہتے: اے گروہ مریدین! نہ زیادہ کھاؤ، نہ پیؤورنہ زیادہ سوؤ گے، اورنتیجۃً زیادہ نقصان اٹھاؤ گے۔
بھو ک سے عبادت پر دوام آسان ہوجاتاہے جبکہ سیر ہوکر کھانے والا عبادت میں سستی کرتاہے،اورکھانے کی کثرت اُس کی تلاش ، اسے پکانے ، ہاتھ دھونے ، خلال کرنے اورپانی لینے کے لئے پانی والی جگہ پرجانے کا تقاضا کرتی ہے۔