| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جان لو ! تمام آفات کی ا صل پیٹ کی شہوت ہے اوراسی سے شرمگاہ کی شہوت پیدا ہوتی ہے ،حضرت سیِّدُنا آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی آزمائش اسی کے ذریعے ہوئی اور آپ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کو دنیا میں بھیجا گیا، اسی کی وجہ سے آدمی دنیا کا طالب ہوتا ہے اوراس میں رغبت کرتاہے۔
بھوک کی فضیلت اورشکم سیری کی مُذَمّت کا بیان:
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: ''بھوک اور پیاس کے ذریعے اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کرو، کیونکہ اس کا ثواب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہادکرنے جتنا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھوک اورپیاس سے بڑھ کر کوئی عمل پسند نہیں۔''
حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرما نِ عالیشان ہے:'' لَایَدْخُلُ مَلَکُوتُ السَّمَاءِ مَنْ مَّلاَءَ بَطَنَہ،
ترجمہ:جو شخص اپنے پیٹ کو بھرتاہے آسمان کے فرشتے اس کے پاس نہیں آتے ۔ ''
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اِلْبَسُوْا وَاشْرَبُوْا وَکُلُوْا فِیْ اَنْصَافِ الْبُطُوْنِ،فَاِنَّہ، جُزْءٌ مِّنَ النُّبُوَّۃِ
ترجمہ: لباس پہنو اورآدھا پیٹ کھاؤ پیؤ،بے شک یہ نبوّت کا ایک جزء ہے۔
(فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث۳۳۸/۳۳۹،ج۱،ص۶۸، بدون واشربوا)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور نبئ رحمت،شفیعِ امت، قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :
اَفْضَلُکُمْ مَنْزِلَۃً عِنْدَ اللہِ تَعَالٰی اَطْوَلُکُمْ جُوْعًا وَّ تَفَکُّرًا وَاَبْغَضُکُمْ اِلَی اللہِ کُلُّ نَؤُوْمٌ اَکُوْلٌ شَرُوْبٌ۔
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں تم سب سے افضل وہ ہے جو زیادہ بھوکا رہتاہے اور غوروفکر کرتاہے اورسب سے برا وہ ہے جو خوب سوتا اور زیادہ کھاتاپیتا ہے۔