| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
آگے بڑھ کر ہمیشگی کی حالت اختیار کرے اورجب اس پر کچھ چیزوں کا ظہور ہو جائے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے، اوراپنے شیخ سے اس کاذکر کرے، کیونکہ وہ ان اسرار ورموز کو جانتا ہے جومرید پر صفائی و کدورت کے معاملے میں طاری ہوتے ہیں،اورمرید پرجو خیالات، وساوس اورصحیح احوال پائے جاتے ہیں ان کا خود بخود جاننا ممکن نہیں۔ لہٰذا وہ اپنے شیخ کو بتا دے کیونکہ وہ اسے زیادہ جانتاہے اورجب تک وہ سمجھتا ہے کہ اس کا نفس ابھی تک زِیر نہیں ہواتو تمام احوال میں اس کے لئے ذکر کرناضروری ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:قُلِ اللہُ ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کہو ، پھر انہیں چھوڑ دو۔ (پ7،الانعام:91)
چنانچہ اس پر جب کوئی وسوسہ یا بُر اخیال غالب ہو،اور اس کے غائب ہونے تک وہ اسے جان نہیں پاتا تو اس میں کوئی حرج نہیں، لہٰذا جب اس کے دل سے وسوسہ نکل جائے اوروہ حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنا شروع کردے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:(1) اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿201﴾
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں ۔ اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔(پ9،الاعراف:201)
(2) وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿200﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اوراے سننے والے! اگر شیطان تجھے کوئی کو نچا دے (کسی برے کام پر اکسائے )تو اللہ کی پناہ مانگ بے شک وہی سنتا جانتاہے ۔(پ9،الاعراف: 200) اور اپنی ساری زندگی پابندی سے ذکرکرتا رہے،ہوسکتا ہے کہ عنقریب وہ ملوکِ دین( یعنی دین کے بادشاہوں )میں سے ہو جائے جن پر حقائق ظاہر ہوجاتے ہیں ،اوروہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی دل پر ان کاگمان گزرا۔ اگر اس پر کوئی شئے ظاہر نہ ہو تو وہ ذکر پر ہمیشگی اختیار کرے ،کہ حضر ت مَلَکُ الموت علیہ السلام کی آمد کے وقت اس پر وہ اشیاء ظاہر ہو جائیں اوراگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو وہ مقصود تک پہنچ جائے گا۔اس بات کو سمجھ لو تمہیں فائدہ ہوگا۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔