جہاں تک بیداری کا تعلق ہے تویہ دل کو روشن ومنوّر کرتی ہے ،اوربھوک بیداررہنے میں مدددیتی ہے اوریہ دونوں چیزیں دل کو منوّر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہيں ۔ نیند دل کو سخت اور مردہ کردیتی ہے مگر یہ کہ بقدرِ ضرورت ہو(تودل کے لئے نقصان دِہ نہیں) ابدال کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں، کہ ان کی نیند غلبہ کے وقت ، کھانا فاقے کے وقت اورکلام ضرورت کے وقت ہوتاہے۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہیں: ''ستر صدّیقین اس بات پر متفق ہیں،کہ نیند کی کثرت کا سبب زیادہ پانی پینا ہے۔''
خاموشی گوشہ نشینی اورخلوت کی صورت میں آسان ہوتی ہے اورکلام کازیادہ حریص وہ شخص ہوتا ہے جو صاحبِ علم ہو، کیونکہ اس سے رکنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن اس کا فائدہ ونفع بھی بہت زیادہ ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے باطن غیب کی طرف متوجہ ہوتاہے اوراس دنیاوی زندگی سے اعراض کرتاہے ۔
جبکہ خلوت کا فائدہ یہ ہے کہ انسان غفلت سے بچ جاتاہے، تاکہ مقصد کے لئے فارغ ہوسکے اور اس مقصد کے لئے حواس کا سکون ضروری ہے، کہ اس سے انسان کا دل حرکت کے قابل ہوجاتاہے اوراس کے لئے خلوت ضروری ہے، پھر بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے کمرے میں خلوت اختیار کرے، جس میں اندھیرا ہو، تاکہ اس کی نظر کسی ایسی چیز پر نہ پڑے جو اسے غافل کردے، لیکن اگر تاریک کمرہ میسر نہ ہوتو وہ اپنے سر کو کسی چیز سے لپیٹ لے یا آنکھیں بند کرلے ،اور حواس کے سکون کی صورت وہ ندائے حق سنے گا،نیز اللہ ربّ العزّت کے جمال کا مشاہدہ کریگا ،کیا تم نہیں دیکھتے !کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو جب ندا دی گئی تو ارشاد فرمایاگیا :