کے معنی کی ایمان کے ساتھ تصدیق کرے ،اور ان اعمال پر عمل پیرا ہو جو اس کلمہ کی تصدیق کرتے اوراسے ثابت کرتے ہیں ،اوردنیا اوراس کی خواہشات اوران تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن کی طرف نفس مائل ہوتاہے، تو اس وقت وہ اپنی پوری ہمت کے ساتھ حقیقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے لئے درست اعتقادظاہر ہوجائے گا، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اورجنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے۔ (پ21،العنکبوت:69)
جہاں تک گناہوں کا تعلق ہے تووہ انہیں چھوڑدے ،اوران کی جگہ عبادات بجالائے، گذشتہ گناہوں پر شرمندہ ہو اور توبہ کرے اور لوگوں کے حقوق لوٹا دے۔ جب وہ ایسا کرے اوران چاروں امور سے فارغ ہوجائے تووہ اس شخص کی طرح ہوگیا جو وضو کرتا ہے، ناپاکی کو دور کرتاہے، شرمگاہ کو ڈھانپتا ہے اورنماز کے لئے تیار ہوجاتاہے۔ اس وقت اسے راہ ِآخرت سے واقف ایک شیخ کی ضرورت ہوتی ہے، کہ وہ اس کی رہنمائی کرے اوراس وقت وہ شیخ کے سامنے اس طرح ہوتاہے ،جس طرح غسل دینے والے کے ہاتھوں میں میت ہوتی ہے کہ وہ خودبخود حرکت نہیں کرتی بلکہ غسل دینے والا جس طرح چاہتا ہے، اسے حرکت دیتاہے۔ اس وقت اسے چاہے کہ وہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ وحضرت سیِّدُنا خضر علیٰ نبیناوعلیہما الصلوٰۃو السلام کے واقعہ کو یاد کرے اوراپنے شیخ پر کسی حالت کے بارے میں اعتراض نہ کرے۔ اس وقت اسے چار چیزوں کا حکم دیا جائے گا: (۱)خلوت (۲)خاموشی (۳) بھوک (۴) بیداری ۔
جہاں تک بھوک کا تعلق ہے تو اس سے مراد دل کا خون کم ہوناہے ،اس میں دل کی سفیدی ونور ہے،بھوک سے دل کی چربی پگھل جاتی ہے ،یہ دل کی نرمی کا سبب ہے ،یہ نرمی مکاشفہ کی چابی ہے، جس طرح سختی جو نرمی کی ضد ہے، حجاب کا باعث ہوتی ہے اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا کو ارشادفرمایا:''بھوک سے شیطان کی گزرگاہوں کو تنگ کرو۔''
اس فرمان میں اسی طرف اشارہ ہے اورحضرت سیِّدُنا عیسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام نے اپنے رفقاء سے ارشاد فرمایا: ''اپنے پیٹوں کو بھوکا رکھو تاکہ تم دل (کی آنکھوں) سے اپنے رب کا دیدار کرو۔''
حضرت سیِّدُنا سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:''چارخصلتوں کے بغیر ابدال کا مرتبہ حاصل نہیں ہوتا:(۱)پیٹ کو بھوکا رکھنا (۲)بیداری(۳)خاموشی (۴)لوگوں سے دور رہنا۔''