| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
وقت میری عمر چھ ،سات سال تھی، میں روزانہ روزہ رکھتا ، بارہ سال تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا، تیرہ سال کی عمر میں مجھے ایک مسئلہ پیش آیا ، میں نے گھروالوں سے کہا:''مجھے بصرہ بھیج دو تاکہ میں وہاں کے علماء سے اس کے بارے میں دریافت کروں لیکن ان میں کسی نے مجھے شافی جواب نہ دیا، پھر میں عبادان کی طرف نکلا۔
میں نے وہاں پر حضرت سیِّدُنا ابو حبیب حمزہ بن عبداللہ عبادانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نامی بزرگ سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے قابلِ اطمینان جواب دیا،میں ان کے پاس ٹھہر گیا، ان کے کلام سے نفع حاصل کرتااورآداب سیکھتا رہا، پھر میں تستر کی طرف آگیا، میں نے اپنی روزی کا انتظام یوں کیا کہ میرے لئے ایک درہم کے ایک فِرق (چارکلو) جَو خریدے جاتے ،انہیں پیس کر روٹی پکائی جاتی،میں ہر رات سحری کے وقت ایک اوقیہ روٹی کھاتا جو نمک اورسالن کے بغیر ہوتی، چنانچہ ایک درہم مجھے سال بھر کے لئے کافی ہوجاتا پھر میں نے ارادہ کیا، کہ تین دن مسلسل روزہ رکھوں گا، پھر افطار کروں گا پھر پانچ دن ، پھر سات دن اورپھر پچیس دن کا مسلسل روزہ رکھا اوربیس سال تک میرا یہی معمول رہا۔ پھر میں زمین میں سیروسیاحت کے لئے نکلا، پھر تستر واپس لوٹ آیا اورمیں ساری رات قیام کرتا تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ جو قوّی اورکریم ہے وہی اس کی توفیق عطافرمانے والا ہے۔ ''مُرِید بننے کی شرائط:
جان لو ! جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتاہے، اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دنیا کی کھیتی کو چھوڑ دیتاہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے دل سے آخرت کا یقینی مشاہدہ کرلیتاہے اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دنیا کو حقیر سمجھتا ہے اورجو شخص نفیس جوہر دیکھ لے اوراس کے ہاتھ میں منکا ہوتو اب اسے منکے کی رغبت نہیں رہتی جو ایسا نہیں کرتا ( یعنی آخرت کی کھیتی کا ارادہ نہیں رکھتا)تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اورآخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔
(پس معلوم ہوا )اللہ عَزَّوَجَلَّ تک رسائی کا نہ ہونا راہ سلوک پر گامزن نہ ہونے کی وجہ سے ہے ، اس راہ پر گامزن نہ ہونا ارادہ نہ ہونے کی وجہ سے ہے اورارادہ میں رکاوٹ ایمان کا نہ ہوناہے، اورظاہری طور پر عدمِ ایمان کا سبب سیدھا راستہ دکھانے والوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والے علماء کا نہ پایا جانا ہے ۔چنانچہ جو شخص اپنے نفس سے یا اس کے غیر سے آگاہ ہوجائے تو اس کے لئے چند شرائط ہیں (مرید بننے سے پہلے)انکا پایا جانا ضروری ہے۔
پہلی شرط:پردے اوررکاوٹ کو اٹھادینا ہے اوریہ چار ہیں: (۱) مال (۲) جا ہ ومرتبہ(۳)تقلید اور (۴)گناہ۔
جہاں تک مال کا تعلق ہے تو وہ ضرورت سے زائد تقسیم کردے، اورجاہ سے خلاصی اس طرح ممکن ہے کہ وہ وطن سے دور چلا جائے، یا تواضع وپوشیدگی کو اختیار کرے اور اس چیز کی طرف متوجہ ہوجو جاہ ومرتبہ کو ختم کردیتی ہے، اورتقلید کا حجاب اس طرح