Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
218 - 415
(2) اَلتَّآئِبُوۡنَ الْعٰبِدُوۡنَ
ترجمۂ کنزالایمان:تو بہ والے عبادت والے۔(پ11،التوبہ:112)
(3) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوۡبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیۡمَانًا
ترجمۂ کنزالایمان:ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اورجب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے ۔ (پ9،الانفال:2)
(4) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا
ترجمۂ کنزالایمان:اوررحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔ (پ19 ،الفرقان:63)
ابتدائی عمر میں بچوں کی تربیت کا طریقہ:
    بعض بچے ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اگر ابتدائی عمر میں مشفِق کی معمولی سی توجہ حاصل ہوجائے، تو وہ ان کے لئے کافی ہوتی ہے ۔ جس طرح حضرت سیِّدُنا سہل تستری علیہ رحمۃ اللہ الولی سے منقول ہے ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' میری عمر تین سال تھی اور میں رات کو اٹھ کر اپنے ماموں حضرت سَیِّدُنامحمد بن محمدبن سوّار علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کو خلوت میں نمازپڑھتے دیکھتا تھا۔ ایک دن میرے ماموں نے مجھ سے پوچھا: ''کیا تو اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کویاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا ؟'' میں نے پوچھا:'' میں اسے کس طرح یاد کروں ؟'' انہوں نے فرمایا:''جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تین بار زبان کو حرکت دئیے بغیر محض دل میں یہ کلمات کہو:
'' اَللہُ مَعِیَ،اَللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ،اَللہُ شَاھِدِیْ
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دیکھ رہا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ میرا گواہ ہے ۔'' 

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:میں نے چند راتیں یہ کلمات پڑھے پھر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا:''ہر رات سات مرتبہ پڑھو۔'' میں نے انہیں پڑھا پھر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا:'' ہر رات گیارہ مرتبہ یہ کلمات پڑھو۔'' میں نے اسی طرح پڑھا، تو میرے دل میں اس کی لذّت پائی گئی، جب ایک سال گزرگیا تو میرے ماموں نے مجھ سے فرمایا:'' میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے یاد رکھو اورقبر میں جانے تک ہمیشہ پڑھتے رہنا، تمہیں دنیا وآخرت میں نفع دے گا۔'' میں نے کئی سال تک ایسا کیا تو اپنے اندر اس کا مزہ پایا پھر ایک دن میرے ماموں نے فرمایا:'' اے سہل ! اللہ عَزَّوَجَلَّ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اوراس کا گواہ ہو ،وہ اس کی نافرمانی کیسے کر سکتاہے ؟ گناہ سے بچو۔''میں تنہائی میں یہ ذکر کرتا رہا پھر انہوں نے مجھے مکتب میں بھیجا،تو میں نے عرض کی:'' مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے ذکر میں خلل نہ آجائے۔چنانچہ انہوں نے استاد صاحب سے یہ شرط مقرر کی ،کہ میں ان کے پاس جاکر صرف ایک گھنٹہ پڑھوں گا، پھر لوٹ آؤں گا، میں مکتب جاتارہا اورقرآن مجید حفظ کرلیا، اس
Flag Counter