Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
217 - 415
وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حقیقت نشان ہے :
اِنَّہٗ مَنۡ یَّـتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللہَ لَایُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿90﴾
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک جو پرہیزگاری اورصبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر ) ضائع نہیں کرتا۔(پ13،یوسف:90)

    حضرت سیِّدُنا جنیدبن محمد خزازعلیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں : '' ایک مرتبہ میں رات کو جاگا اوراپنے وظیفہ میں مشغول ہوگیا، لیکن میں نے اس میں وہ لذّت نہ پائی جو پہلے پایا کرتا تھا چنانچہ میں نے سونے کا ارادہ کیا لیکن سونہ سکا، لہٰذا بیٹھ گیا لیکن بیٹھ بھی نہ سکا تو باہر نکل گیا،کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کمبل میں لپٹا ہوا راستے میں پڑا ہے، جب وہ میرے آنے پر مطلع ہوا تو کہنے لگا: ''اے ابوقاسم! ذرا میرے پاس تشریف لائیے۔'' میں نے کہا: ''اے محترم! پہلے سے آپ نے کوئی اطلاع نہیں دی۔'' اس شخص نے کہا:'' جی ہاں! میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں التجا کی کہ وہ تیرے دل کو میری طرف متوجہ کر دے۔'' میں نے کہا:''وہ تیری طرف متوجہ ہو گیا ہے ،(اب بتاؤ )تمہاری کیاحاجت ہے؟'' اس نے کہا:'' نفس کی بیماری اس(نفس)کا علاج کب بنتی ہے ؟''میں نے کہا: ''جب تو نفس کی خواہش میں اس کی مخالفت کرے۔'' پس وہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا:'' اے نفس! اب سن لیا! میں نے تجھے سات باراس بات کا جواب دیا لیکن تو نے انکار کیا اورکہا: میں حضرت سَیِّدُناجنیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہی سنوں گا (تواب تو نے سن لیا)۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص چلا گیا اورمیں اسے نہ پہچان سکا۔
اچھے اَخلاق کی علامات کا بیان
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
(1) قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿1﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوۡنَ ۙ﴿2﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوۡنَ ﴿ۙ3﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿4﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿5﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿6﴾فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿7﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ۙ﴿8﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿9﴾اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوَارِثُوۡنَ ﴿ۙ10﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں اوروہ جو کسی بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اوروہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں اوروہ جواپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یاشرعی باندیوں پر جوان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جوان دو کے سوا کچھ اورچاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں اوروہ جو اپنی امانتوں اوراپنے عہدکی رعایت کرتے ہیں اوروہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں۔(پ18،المؤمنون:1تا10)
Flag Counter