رازدار تھے،امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے پوچھتے: کیا آپ کو مجھ میں منافقت کے آثار نظر آتے ہیں ؟ تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر بلند مرتبہ اورعظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود اس طرح اپنے نفس کو اس قدر تہمت لگاتے تھے۔
اگر تجھے کوئی دوست نہ ملے تو اپنے حاسدین کی باتوں پر غور کر، تُو ایسے حاسد کو پائے گا جو تیرے عیبوں کا متلاشی ہوتا ہے اوراس میں اضافہ کرتاہے، پس تو اس سے فائدہ اٹھا اوراس کی طرف سے بتائے جانے والے تمام عیوب کے ساتھ اپنے نفس کو متَّہم جان اوراگر کوئی شخص تجھے تيرے عیب بتائے تو اس پر غضب و غصہ نہ کرکیونکہ عیوب سانپ اوربچھو ہیں جو دنیا وآخرت میں تجھے ڈستے ہیں۔کیونکہ جو شخص تجھے بتائے کہ تيرے کپڑوں کے نیچے سانپ ہے تو تو اس شخص کا احسان مند ہوتا ہے ،لیکن اگر تو اس پر غصہ کرے تو یہ آخرت میں تیرے ایمان کی کمزوری پر دلیل ہے ۔اوراگر تو اس کی نصیحت سے فائدہ اٹھائے تو یہ تیری قوّتِ ایمانی پر دلیل ہے اورجان لے کہ ناراض ہونے والی آنکھ برائیوں کو ظاہر کرتی ہے ،اور ایمان کاقوِّی ہونا تجھے اس وقت فائدہ دے گاجب توحاسدوں کی ملامت کو غنیمت جانے اوران عیوب سے بچے۔
حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام سے پوچھا گیا:'' آپ کو ادب کس نے سکھایا ؟'' آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: '' مجھے کسی نے ادب نہیں سکھایا،میں نے جاہل کی جہالت (کہ یہ بھی ایک عیب ہے)کو دیکھاتو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔''
جان لو ! جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے جب تم اس میں غوروفکر کروگے تو تمہاری بصیرت کی آنکھ کھل جائے گی، اورتم اس سے فائدہ حاصل کروگے، اگر تمہیں یہ چیز نہ حاصل ہو تو کم از کم اس پر ایمان لانا اوراس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ پہلی چیز ایمان ہے اورپھر اس منزل تک پہنچنا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے: