ترجمہ:جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تو اسے اس کے عیوب دکھا دیتاہے۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الأمل، الحدیث۱۰۵۳۵،ج۷،ص۳۴۷)
اپنے عیوب پہچاننے کے طریقوں میں سے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے، کہ انسان اپنے مُرشِد کے سامنے بیٹھے اور اس کے حکم کے مطابق عمل کرے، کبھی اسی وقت اس پر اپنے عیوب ظاہر ہوجاتے ہیں اورکبھی اس کا مُرشِد اسے اس کے عیوب سے آگاہ کر دیتا ہے۔ یہ طریقہ سب سے اعلیٰ وبہترین ہے، مگر آج کل یہ بہت مشکل ہے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی نیک دوست تلاش کرے ،جو اس معاملہ کے اسرار سے واقف ہو،اس کی صحبت اختیارکرے اوراسے اپنے نفس کا نگران بنائے، تاکہ وہ اس کے اَحوال کو ملاحظہ کرکے اس کے عیوب سے آگاہ کرے ۔ اَکابِر اَئمہ دین اسی طرح کیا کرتے تھے۔
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے تھے :''اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جو مجھے میرے عیوب بتائے۔''جب حضرت سَیِّدُناسَلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے اپنے عیبوں کے بارے میں پوچھا:''کیا آپ تک میری کوئی ایسی بات پہنچی ہے جو آپ کو ناپسند ہو؟'' انہوں نے بتانے سے معذرت کی، لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصرار کیا تو حضرت سیِّدُنا سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :''میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے دسترخوان پر دوسالن جمع کرتے ہیں اورآپ کے پاس دو جوڑے ہیں، ایک دن کا اورایک رات کا۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:'' اس کے علاوہ بھی کوئی بات پہنچی ہے ؟''تو انہوں نے عرض کی:'' نہیں۔''امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اگر صرف یہی دو ہیں تو میں انہیں کافی ہو جاؤں گا۔''
حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ منافقین کی پہچان کے معاملے میں رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے